خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 380 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 380

380 پروگرام لجنہ مرکز یہ بنائے یا جو ذمہ داریاں حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے سپرد کی جائیں۔ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام قو تیں بروئے کار لائیں دین کو دنیا پر مقدم رکھیں۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے جب ہم قرآن کریم کے معانی سمجھتی ہوں تا اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں۔آنحضرت ﷺ کے اُسوہ حسنہ کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالتے ہوئے اپنی زندگیاں إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (الانعام: 163 ) کے مطابق گزاریں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حال ہی میں جماعت کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کا نظام وصیت سے بڑا گہرا تعلق ہے۔اس لئے آپ نے ہر جماعت میں موصی اصحاب کو اپنی تنظیمیں بنانے کا ارشاد فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کی شرائط میں سے ایک یہ بھی قرار دی ہے کہ وہ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے والا ہو۔نئے سال کے پروگرام میں بجنات اماء اللہ کا یہ کام بھی ہوگا کہ نظام وصیت کو وسیع تر کریں۔اور زیادہ سے زیادہ وصیتیں کروائیں۔اور پھر ان کو وصیت کی اہمیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی طرف متوجہ کرتے رہیں تا احمدیت کے قیام کی غرض یعنی صحیح اسلامی معاشرہ کا قیام پوری ہو۔اور جماعت کی مستورات کی ہر عورت لجنہ اماءاللہ کی ہر ممبر صحابیات رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والی ہو۔تحریک وقف زندگی:۔تیسری تحریک جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جماعت کے سامنے رکھی ہے۔وقف زندگی کی ہے گوعورتوں کا اس سے براہ راست تعلق نہیں کیونکہ وہ اکیلی شہر سے باہر جا کر کام نہیں کرسکتیں۔لیکن بالواسطہ طور پر وہ اس میں حصہ لے سکتی ہیں۔ہم میں سے کوئی بھی بہن ایسی نہیں جس کا خاوند ، بھائی ، بیٹا یا کوئی اور رشتہ دار اس کے زیر اثر نہ ہو۔اگر ان کو وہ وقف عارضی میں حصہ کی ترغیب دیں تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہوں گی۔جماعت کو وقف زندگی کی ضرورت ہے۔مگر ماؤں کو احساس نہیں ہوتا۔تبلیغ اسلام کے لئے واقفین آپ نے مہیا کرنے ہیں۔اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور خاوندوں کو آپ نے وقف پر آمادہ کرنا ہے۔مگر بعض عورتیں ایسی ہیں کہ جب خاوند وقف کے لئے جانے لگتا ہے تو اس کے پاؤں میں زنجیریں ڈال دیتی ہیں۔اور اس کے جانے کے بعد اسے اپنی تکالیف کا احساس دلاتی ہیں۔ان کا یہ اظہار ان کے خاوندوں کو خدا کی راہ میں کام کرنے سے باز رکھتا ہے۔ملک سے باہر ہوتے ہوئے بھی انہیں اشاعت اسلام کی فکر کی بجائے یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد ہمارے بیوی بچے تنگی سے گزر کر رہے ہیں۔وہ کچھ وقت بچا کر اور کام کرنا