خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 382
382 ان تحریکات کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت کے احباب کو رسومات ترک کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔ہمارا نصب العین دنیا میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے جھنڈے کو بلند کرنا ہے۔یعنی ہماری زندگیاں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں وہی ہمارا مطلوب و مقصود ہو۔اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں دنیا کے تمام تعلقات، برادری، رشتہ داریاں ، عزیز اقارب اور دوستیاں سب پیچ ہو جائیں۔اس جذبہ کے بغیر انسان اللہ تعالیٰ کا عبد نہیں بن سکتا۔اور اپنی پیدائش کی غرض مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ الذَّرِيت : 56 کو پورا نہیں کر سکتا۔عورتوں میں باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لینے کے بہت سی رسومات پائی جاتی ہیں۔بعض رسومات کا تعلق مذہب سے ہے۔بعض کا بچہ کی پیدائش ، بعض کا شادیوں سے اور بعض کا وفات سے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر ادھر بالکل نہ جاوے۔کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار 66 ایک شریعت بنا دے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 128 اسی طرح آپ فرماتے ہیں: تم یا درکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں۔ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔بُھولا ہوا ہے وہ جوان را ہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔نا کام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں بلکہ اور اور راہوں سے اُسے تلاش کرتا ہے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 103 66 اسلامی شریعت کے ماخذ تین ہیں۔قرآن شریف سنت رسول اللہ ﷺ اور حدیث یعنی آنحضرت ﷺ کے اقوال اور اس زمانہ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ کیونکر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے لئے حکم اور عدل بنا کر بھیجا ہے۔حضرت مصلح موعود نے بھی تحریک جدید اس غرض سے جاری فرمائی تھی کہ جماعت کی عورتیں سادگی اختیار کریں۔رسومات ترک کریں۔بے فائدہ رسومات پر روپے ضائع نہ کریں۔اور جماعت کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں ممد ہوں۔اور یہ کام ایک یا دو عورتوں کے کرنے کا نہیں۔کسی قوم کی ترقی بھی اتحاد کے نتیجہ میں ہوئی ہے۔اور الہی سلسلوں کی مخالفت بھی متحدہ ہوتی چلی آئی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسِ اَشْتَاتًا لِيَرَوْا