خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 16
16 چوتھا انعام یہ ہے کہ متقی تمام اخروی نعمتوں کے مستحق ہوں گے جیسا کہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے ظاہر ہوتا ہے۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتٍ وَنَعِيمٍ (الطور :18) یقینا متقی باغوں میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنْتٍ وَعُيُونِ (الذاریات: 16) یقینا متقی باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔اِن لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا (الانبياء :32) بیشک متقیوں کے لئے کامیابیاں ہیں۔پانچواں انعام جو متقیوں کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعائیں سنتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اور لوگوں کی دعائیں نہیں سنتا۔بلکہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو متقی ہو گا۔اس کی دعائیں ضرور سنی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دو پس ہمارے دوستوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں۔ان کو چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں۔کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں۔تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں۔لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انما يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائده: 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں متخلف نہیں ہوتا۔جیسا کہ فرمایا ہے ”إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ “ (الرعد: 32) ملفوظات جلد اوّل صفحہ 68 نیا ایڈیشن کے یہ چند موٹے موٹے انعامات ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ورنہ قرآن مجید سے اور انعامات کا پتہ بھی چلتا ہے جو متقیوں کو ملتے ہیں سب سے بڑا انعام تو یہی ہے کہ انسان کا ہر لحاظ سے انجام اچھا ہو۔دنیوی لحاظ سے بھی اور دینی لحاظ سے بھی۔متقیوں کے متعلق قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ گوان کو وقتی طور پر تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ابتلاء بھی آتے ہیں لیکن انجام کار دونوں جگہ کامیابی اور فلاح ان کی قسمت میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص: 84) يَا وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ (زخرف: 36) اور وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى (طه : 133) متقیوں کی علامات :۔اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید سے ہمیں متقیوں کی علامات کیا کیا ملتی ہیں۔جن سے ہم اہل تقویٰ کو