خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 15
جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہوگا۔اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہوگی۔جو انتظامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے۔لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے ، خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ لطف کن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش ملفوظات جلد اول صفحہ 50 تقویٰ کی برکات۔تقویٰ کی اہمیت اور عظمت معلوم ہو جانے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ متقیوں کو قرآن مجید کی رو سے کیا کیا انعامات ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے انعامات میں سے ایک انعام یہ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر دیتا ہے اور اس کے کاموں کا خود متکفل بن جاتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے وَمَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (اطلاق: 4,3) یعنی اللہ تعالیٰ متقی کو ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔اس کی ضرورتیں خود پوری کرتا ہے اور اس کے لئے روزی کے ایسے سامان بہم پہنچاتا ہے۔جو اس کے وہم وگمان سے بالا ہوتے ہیں۔دوسرا انعام جو حقیقت میں سب سے بڑا انعام ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنْ اَوْلِيَاءُ هُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال: 35) کہ اللہ تعالیٰ صرف متقیوں کو دوست بناتا ہے۔پس کتنا بڑا انعام ہے جو ایک متقی کو ملتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کا قرب کسی شخص کو اپنے کسی افسر کا ذرا سا بھی قرب میسر آجائے تو وہ کتنا فخر کرتا پھرتا ہے اور دوستوں کو بتاتا پھرتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت سمجھنے لگتا ہے۔لیکن وہ شخص کتنا خوش قسمت ہوگا جسے خدا تعالیٰ کی دوستی اور اس کا قرب میسر آ جائے۔ایک اور آیت بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے فَاِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (آل عمران: 77) یعنی اہل تقویٰ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں۔تیسرا انعام جو قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ متقیوں کو اسی دنیا میں بشارتیں ملتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں متقی کے لئے ایک اور بھی وعدہ ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ (یونس : 65) یعنی جو متقی ہوتے ہیں۔ان کو اس دنیا میں بشارتیں بچے خوابوں کے ذریعہ ملتی ہیں۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ صاحب مکاشفات ہو جاتے ہیں۔مکالمۃ اللہ کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 10