خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 316
316 بڑے بڑے شہروں میں لجنات قائم ہیں۔قوم کی عورتیں اور بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔جماعت میں اچھی اچھی تقریر کرنے اور لکھنے والی پیدا ہو چکی ہیں۔عورتوں کے کئی مدارس اعلیٰ پیمانہ پر چل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا تھا کہ اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو احمدیت کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔اس لئے رات اور دن آپ کو ایک تڑپ تھی ایک لگن تھی ایک آگ لگی ہوئی تھی کہ عورتیں دینی دنیاوی روحانی ہر لحاظ سے ترقی کریں تا ان کے گھروں سے پروان چڑھنے والی نسل احمدیت کی جاں نثار اور اسلام کی خاطر اپناتن من دھن قربان کرنے والی ہو۔اور یہ ہے بھی حقیقت کہ جب تک عورت خود تعلیم دین سے واقف نہ ہوگی خود احمدیت کی جانثار اور فدائی نہ ہوگی وہ اپنی اولاد کو دیندار نہیں بنا سکتی اور ان کے دل میں قربانی کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ کا آپ پر کتنا بھاری احسان اور فضل ہے کہ اس اسلام کی آئندہ ترقی کو ہم ناقص العقل عورتوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔اور حضرت فضل عمر کا ہم پر کتنا احسان ہے کہ آپ نے دن اور رات ہماری بہبودی میں خرچ کئے تا جلد سے جلد جماعت ترقی کرے تا جلد سے جلد محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت تمام دنیا میں قائم ہو جائے۔اے اللہ تو وہ دن جلد سے جلد لے آتا ہم آنکھوں سے اسلام کو تمام ادیان پر غالب دیکھ سکیں۔آمین ثم آمین لیکن جہاں اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ ہے کہ وہ آپ کی جماعت کو ساری دنیا پر غالب کرے گا۔اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حضرت فضل عمر سے یہ وعدہ ہے کہ تیرے ماننے والے تیرے نہ ماننے والوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے وہاں ہم پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔کہ ہم اپنی کوششوں اور اپنی قربانیوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے دن کو قریب تر لانے والی ہوں۔ہم اپنی آنکھوں سے اسلام کا غلبہ دیکھیں۔ہم نے مصلح موعود کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور فضلوں کی اپنے پر بارش ہوتے دیکھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ - (ابراهیم: 8) اگر میرے انعامات اور میرے احسانات کی تم لوگ قدر کرتے رہے تو ہمیشہ اپنے آپ کو مزید انعامات کا حقدار بناتے جاؤ گے۔لیکن ناقدری کرنے کی صورت میں خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے بھی رہنا چاہئے۔سب سے بڑا انعام ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی