خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 315 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 315

315 جلسہ سالانہ 1965ء کے موقع پر تقریر نوٹ :۔یہ اہم تقریر بذریعہ ٹیپ ریکارڈ مستورات کے جلسہ میں 21 دسمبر کے دوسرے اجلاس میں سنائی گئی۔میری پیاری بہنو اور بچیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ پہلا جلسہ سالانہ ہے کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے خطاب نہیں کر سکی۔لیکن بعض ضروری باتیں کہنا چاہتی ہوں۔اس لئے ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ آپ سے مخاطب ہوتی ہوں۔امید ہے کہ آپ توجہ سے سنیں گی اور ان پر عمل کریں گی۔حضرت مصلح موعود کے وصال کے بعد یہ پہلا جلسہ سالانہ ہو رہا ہے۔مشتاق دیدار نظریں جو سارا سال اس انتظار میں گزارتی تھیں کہ ہم جلسہ پر جائیں گی۔تو اپنے آقا کا دیدار کریں گی اور ہمارے جانے کا پھل ہمیں مل جائے گا۔آج چاروں طرف دیکھتی ہیں اور اس پاک وجود کو نہیں پاتیں۔یہ غم ایسا غم ہے جو بھلایا نہیں جا سکتا۔وہ پاک وجود وہ قدرت رحمت اور قربت کا نشان۔وہ فضل و احسان کی کلید وہ حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نظیر۔وہ جس کے سر پر خدا کا سایہ تھا۔مَظْهَرُ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلا - وہ اسیروں کا رستگار ہاں وہ فضل عمر جس کے ذریعہ ہم نے زندہ خدا کو دیکھا اور اس کے نشانات کا مظاہرہ کیا بے شک آج ہم میں موجود نہیں لیکن اس کی برکات آج بھی زندہ ہیں اس کا لگایا ہوا پودا آج تناور درخت بن چکا ہے۔میری بہنو! اس پاک وجود کے احسانات تو بے شمار ہیں لیکن طبقہ نسواں نے بے حساب آپ کی برکتوں اور آپ کی نوازشوں سے حصہ پایا ہے۔آپ کی خلافت کا ایک ایک لمحہ اس کوشش میں گزرا ہے کہ عورتوں کی اصلاح ہو جائے۔عورتیں ترقی کر جائیں۔احمدی عورتیں دنیا کی کسی قوم کی عورتوں سے پیچھے نہ رہیں۔بلکہ دنیا کی دوسری عورتوں کی راہ نما بنیں۔آپ نے عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی۔عورتوں کے حقوق دلوانے کے لئے ساری دنیا سے سینہ سپر ہوئے۔ان کی تربیت کی طرف توجہ فرمائی۔اس کی تنظیم فرمائی جس کے نتیجہ میں آج لجنہ اماءاللہ کا قیام سارے پاکستان میں ہو چکا ہے بلکہ پاکستان سے باہر بھی دنیا کے