خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 317
317 صورت میں عطا فرمایا ہے۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ یہ انعام بھی مشروط انعام ہے۔یعنی جب تک جماعت انعام خلافت کی اپنے آپ کو حقدار قرار دیتی رہے گی اس وقت تک یہ انعام ان کے اندر باقی رہے گا۔سومیری عزیز بہنو! تمہیں چاہئے کہ اس انعام کو ہمیشہ کے لئے اپنے میں قائم رکھنے کے لئے جد و جہد کر و تا اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے انعامات جس طرح پہلے نازل فرماتا رہا ہے۔اب بھی نازل فرمائے اور ہمیشہ ہی نازل فرماتا رہے۔کبھی بھی کوئی ایسا زمانہ یا وقت نہ آئے جب ہماری کوتاہیوں یا غفلتوں کی وجہ سے ہم یا ہماری نسلیں (خدانخواستہ) عذاب الہی میں گرفتار ہوں۔آپ کا اپنا تعلق خلافت کے ساتھ مضبوط ہو آپ کی نسلوں اور ان کی نسلوں کا تعلق بھی خلافت کے ساتھ مضبوط اور محکم ہو یہ کام مرد نہیں کر سکتے۔یہ کام صرف عورتیں کر سکتی ہیں۔مردوں کے میدان عمل کا حلقہ گھر سے باہر ہے بچوں نے جو کچھ سیکھنا ہے آپ سے سیکھنا ہے۔پس آپ کا کام ہے کہ اپنے بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت آنحضرت ﷺ کی محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور آپ کے خلفاء کی محبت پیدا کریں۔انہیں دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی تعلیم دیں۔ان کے دلوں میں مقام خلافت کا اتنا احترام اتنا ادب اور اتنی محبت پیدا کریں کہ شیطان کسی دروازے سے بھی داخل ہو کر ان کے ایمان میں خلل انداز نہ ہو سکے۔وہ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنے والے ہوں اور جماعت کے لئے قربانیاں دینے والے ہوں اپنی ضروریات اپنی خواہشات اور اپنے نفس پر جماعت کی ضرورت کو مقدم رکھنے والے ہوں۔اے اللہ! تو ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہماری انگلی نسل ہم سے بھی زیادہ تیری خاطر قربانیاں کرنے والی ہو۔وہ تیری عظمت کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے والی ہو۔اور ہمیشہ اس جھنڈے کی حفاظت کرنے والی ہو۔اے اللہ کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہم یا ہماری اولادوں یا اولا دوں کی اولادوں میں سے کسی سے بھی ایسی لغزش غفلت یا کوتا ہی ہو جس سے اسلام کا جھنڈا سرنگوں ہو وہ ہمیشہ ہی بلند رہے۔ہمیشہ ہی محمد رسول اللہ ﷺ کی بادشاہت سب بادشاہتوں پر غالب رہے اور ساری دنیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں شامل ہو جائے۔گذشته سال 1964ء کے جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں احمدی مستورات کے سامنے یہ تجویز رکھوں کہ وہ مصلح موعود کے 50 سالہ کامیاب دور خلافت کے پورا ہونے پر ایک حقیر نذرانہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔یہ تحریک بھی میں سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں