خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 14 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 14

14 فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔یعنی خواہ تم کتنی ہی قربانیاں دیدو۔اگر تمہاری نیت نیک نہیں تو اس کا ثواب تمہیں نہیں ملے گا۔اصل چیز نیت ہے۔اس نیت کے پیچھے اگر تقویٰ ہے تو اس کے مطابق ثواب بھی ملے گا۔نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں الْكَرَمُ التَّقْوَى یعنی بزرگی تقویٰ کا نام ہے جو زیادہ متقی ہے۔وہی زیادہ بزرگ ہے۔(جامع العلوم والحكم جز اول صفحہ: 333) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کتاب ایام اصلح صفحہ 105 پر لکھتے ہیں ” قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پر ہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تا کید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے۔جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔“ تقویٰ کے اجزاء:۔قرآن مجید کی رو سے تقویٰ کے مندرجہ ذیل اجزاء معلوم ہوتے ہیں۔عدل۔صبر کمسن کا قصور ہو جائے تو معاف کر دینا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائده:9) انصاف کرو یہ تقویٰ کے بہت قریب ہے۔گویا اللہ تعالیٰ عدل کو تقویٰ کا ایک حصہ قرار دیتا ہے۔پھر متقیوں کی علامات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَ حِيْنَ البأس (البقره: 178) یعنی تنگی، تکلیف اور جنگ کے وقت میں صبر کرنا تقویٰ کی ایک کڑی ہے۔اسی طرح متقیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (ال عمران : 135) کہ کسی سے قصور ہو جائے تو اس کو معاف کر دینا بھی تقویٰ میں سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔محجب، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے۔اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ادْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( حم السجدة: 35) اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے۔بلکہ اس پر صبر کیا