خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 307
307 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1964ء تشہد وتعوذ کے بعد فرمایا میں سب سے پہلے تمام لجنات کی نمائندگان اور ممبرات کو جو اجتماع کی غرض سے تشریف لائی ہیں۔اھلا و سھلا مرحبا کہتی ہوں۔اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے ہمیں ایک دفعہ پھر مرکز میں جمع ہو کر اپنے سابقہ کاموں کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لئے پروگرام مرتب کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ ابھی ابھی جو عہد نامہ ہم نے دہرایا ہے اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اور احمدیت اور اسلام کی ترقی کے لئے ہرممکن کوشش کرتے رہیں گے مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ آیا ہم اپنے اس عہد اور اقرار کو جو ہم کرتی ہیں پورا کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں یا نہیں۔آپ نے فرمایا کسی چیز کا صرف اقرار کر لیتا ہی کافی نہیں ہوتا۔بلکہ اس کو پورا کرنے کے لئے عمل کی بھی ضرورت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں صحابہ اور صحابیات نے عظیم الشان قربانیاں کیں اور اس عہد کو کہ ہم دیں کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔لفظ بہ لفظ پورا کر کے دکھایا۔ان لوگوں نے وہ عظیم الشان قربانیاں صرف خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے بچے مذہب کی خاطر اور رسول اللہ ﷺ کے عشق میں سرشار ہو کر کی تھیں اور تاریخ اسلام ان قربانیوں سے بھری پڑی ہے مثال کے طور پر آپ نے چند صحابیات کے واقعات سنائے۔مثلاً حضرت عمرؓ کی لونڈی اور حضرت عمار بن یاسر کی والدہ پر ان کے اسلام لانے کی وجہ سے کفار مکہ نے اس قدر ظلم ڈھائے کہ وہ انہیں سختیوں اور مظالم میں فوت ہو گئیں۔اور ان سختیوں کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے آل یا سر صبر کرو کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ان قربانیوں کے بدلہ میں جنت تیار کی ہے۔حضرت صدر صاحبہ موصوفہ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا : موجودہ زمانہ اگر چہ اس قسم کی قربانیوں کا تقاضا نہیں کرتا۔مگر احمدیت کی ترقی کے لئے احمدی مردوں اور خاص طور پر احمدی مستورات کو اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق بہر حال قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایسی قربانیوں کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔مبلغین تبلیغ اسلام کے لئے دور دراز ملکوں میں جاتے تھے۔اور ان کی بیویاں سالہا سال تک ان کے پیچھے صبر و ہمت اور عزت اور عفت سے زندگی گزارتی تھیں۔ہم ان صحابیات کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔صرف اس لئے کہ وہ اپنے خاوندوں کے پاؤں کی زنجیر نہ بنیں۔انہوں