خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 308 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 308

308 نے ان کو پوری دلجمعی کے ساتھ غیر ممالک میں تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے میں مدد دی۔آپ نے فرمایا حضرت مولوی رحمت علی صاحب مولانا عبد الرحیم صاحب درد اور مولانا جلال الدین شمس صاحب کی بیویاں ان احمدی مستورات میں سے ہیں جنہوں نے ان قربانیوں میں حصہ لیا۔اور ایسی ہی قربانیوں کا تقاضا احمدیت ہم لوگوں سے بھی کرتی ہے۔احمدی مستورات کو اپنے اعمال اور اخلاق کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔اور یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ان سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس سے احمدیت کی بدنامی ہو۔آپ نے فرمایا کہ مبلغین کی بیویوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی گھریلو اور معمولی مشکلات کا ذکر کر کے اپنے خاوندوں کو جو غیر ممالک میں اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں پریشان نہ کریں۔اور یہ بھی کہ ان کی عدم موجودگی میں بچوں کی تربیت کا خیال رکھیں کیونکہ یہی بچے آئندہ اسلام کی خدمت کے لئے آگے آئیں گئے۔احمدیت ایک عظیم الشان عمارت ہے اور لجنہ اماءاللہ اس عظیم الشان عمارت کی ایک دیوار ہے جس کی بنیاد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رکھی۔اگر اس دیوار میں کوئی خامی رہ گئی تو ساری عمارت کی خوبصورتی کو دھبہ لگائے گی۔پس لجنہ کی ممبرات کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض کو اچھی طرح جانیں اور انہیں نبھانے کی کوشش کریں۔آپ نے فرمایا لجنہ کی تمام ممبرات کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام ایسے کاموں سے بچیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہماری زندگیاں اس آیت کے مطابق ہوں قُل اِن صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) انسان کی زندگی کا یہی نصب العین اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔اور ہمیں اپنی زندگیوں کو اسی کے مطابق ڈھالنا چاہئے۔آپ نے فرمایا مسلمانوں نے انتہائی درجہ تکالیف برداشت کر کے اور بڑی سے بڑی قربانیاں دے کر پاکستان صرف اسی لئے حاصل کیا تھا کہ وہ بندوں سے الگ ہو کر جن کی تہذیب طرز معاشرت اور مذہب مسلمانوں سے بالکل مختلف ہے اسلامی ہدایات اور تعلیم کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اب ہمارے اعمال و افعال تہذیب و تمدن معاشرت چال و گفتار واقعی اسلامی تعلیم کے مطابق ہیں اور کیا ہم نے اس مقصد کو پا لیا ہے جس کے لئے ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا۔آپ نے فرمایا اسلام میں اخلاق کی درستی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اخلاق کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔مسلمانوں کے افعال۔اعمال ایسے ہونے چاہئیں کہ ان کو دیکھ