خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 13 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 13

ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا۔اسی طرح ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ” تقوی کوئی چھوٹی چیز نہیں اس کے ذریعہ سے ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت وقوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔یہ تمام قو تیں نفس امارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔اگر اصلاح نہ پائیں گی تو انسان کو غلام کر لیں گی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 21 نیا ایڈیشن) اسلام میں برتری کا معیار تقوی:۔اسلام کے نزدیک وہی برتر ہے جو متقی ہے۔تمام نسلی ، خاندانی ، مالی اور حسب و نسب کے امتیازات کو مٹا کر اسلام نے ایک ہی امتیاز قائم کیا ہے جس کا نام تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے اِن اَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ اتفكم (الحجرات : 14) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے معزز وہی ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ فرما دیا ہے کہ خواہ کوئی شخص کتنا ہی مالدار ہو۔حسب و نسب کے لحاظ سے کتنا ہی اونچا ہوا گر متقی نہیں تو قابل عزت نہیں۔اور اگر اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔کھانے کو میسر نہیں۔نسلی برتری حاصل نہیں۔لیکن متقی ہے۔تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص نہایت معزز ہے۔احکامات کی تفصیلات میں جاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ فرماتا بے وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقوى (البقرہ: 198) کہ سفر میں زادراہ لے کر چلو اور سب سے اچھا زاد راہ تقویٰ ہے۔یعنی سفر کو جاتے ہوئے کچھ سامان ضرور ساتھ رکھنا چاہیے۔لیکن تقویٰ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔اگر تم متقی ہو۔تو پھر تمہیں کسی بات کا ڈر نہیں۔یہ زاد راہ تمہارے لئے تمام ساز و سامان سے بڑھ کر ثابت ہوگی۔اس طرح تقویٰ کی فضیلت اس آیت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِبَاسُ التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف :27) کہ سب سے اچھا لباس تقویٰ کا لباس ہے۔اچھے لباس کی خواہش ہر انسان کے دل میں موجود ہوتی ہے۔اسی لئے مشہور ہے کہ کھائیے من بھاتا اور پہنئے جگ بھاتا یعنی وہ لباس پہنے جو دنیا پسند کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے پاس تقویٰ کا لباس موجود ہے تو پھر خواہ تمہارے پاس ظاہری کپڑے پھٹے ہوئے اور چیتھڑے ہی کیوں نہ ہوں۔ہماری نظر میں وہ دوسرے لوگوں کے کمخواب کے لباسوں سے زیادہ قیمتی ہیں۔اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت لَنْ يُنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاءُ هَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج : 38) سے تقویٰ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ