خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 296 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 296

296 جب آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ فرمایا تو آپ ﷺ نے مکہ کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا تم جانتے ہو میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا لوگوں نے کہا ٹھیک ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں تم سے یہ کہوں کہ ایک بڑ الشکر مکہ کے پاس جمع ہو چکا ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو تم میری بات مان لو گے انہوں نے کہا ہاں ! ضرور ہم مان لیں گے۔حالانکہ مکہ کے پاس کوئی لشکر چھپ ہی نہیں سکتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے تمہاری طرف یہ کہہ کر بھجوایا ہے کہ تمہیں ایک خدا کی پرستش کی طرف توجہ دلاؤں اور بتوں کی پرستش سے منع کروں۔آنحضرت ﷺ کے دعوی نبوت کی اطلاع جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لی تو آپ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ ﷺ نے ایسا دعویٰ کیا ہے آپ نے اس خیال سے کہ کہیں حضرت ابو بکر کو ٹھوکر نہ لگ جائے سمجھانا چاہا۔حضرت ابو بکر نے کہا میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایسا دعویٰ کیا ہے یا نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں“ حضرت ابوبکر نے بلا توقف کہا یا رسول اللہ ﷺ میں ایمان لاتا ہوں میں جانتا ہوں آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تو آپ ﷺ خدا کے معاملے میں کیسے غلط بیانی سے کام لے سکتے تھے۔جب آپ ﷺ کے دعویٰ نبوت کی شہرت پھیلنے لگی تو قریش مکہ کو فکر پیدا ہوئی کہ حج کا زمانہ قریب آ رہا ہے لوگ مکہ میں جمع ہوں گے اور آپ ﷺ کے متعلق تحقیق کرنا چاہیں گے تو ہم کیا جواب دیں گے بڑے بڑے سرداران مکہ کی مجلس منعقد ہوئی تا کہ سب مل کر کوئی ایک جواب سوچ لیں۔ایک شخص نے کہا کہہ دیں گے یہ جھوٹا شخص ہے۔نضر بن الحارث جو آپ ﷺ کا اشد ترین مخالف تھا کہنے لگا جواب وہ سوچو جو معقول ہو محمد (ﷺ) تم میں بڑا اور جوان ہوا تم لوگ تسلیم کرتے تھے وہ سچا اور امین ہے اور اسکے اخلاق نہایت بلند ہیں یہاں تک کہ اب اس کے سر میں سفید بال آگئے اور اس نے یہ دعویٰ کیا اب اگر تم کہو گے کہ وہ جھوٹا ہے تو کون مانے گا یہ ایک دشمن کی گواہی ہے جو آپ ﷺ کی صداقت کے متعلق دینے کے لئے وہ مجبور تھا۔آپ ﷺ کو دنیا میں صداقت کے قیام کی اس قدر تڑپ تھی کہ حضرت ابو بکر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ” کیا میں تمہیں ان گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں جو سب سے بڑے ہیں؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! فرمائے آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا گناہ خدا تعالیٰ