خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 297
297 کا کسی کو شریک قرار دینا ہے پھر فرمایا پھر ایک اور بڑا گناہ والدین کی نافرمانی کرنا ہے آپ ﷺ سہارا لے کر بیٹھے ہوئے تھے اتنا فرمانے کے بعد اٹھ کر بیٹھے اور بڑے زور سے فرمانے لگے آلَا وَقَوْلَ النُّورِ الا وَقَوْلَ النُّورِ اَلا وَقَوْلَ الزُورِ - ( بخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین ) اچھی طرح سن لو پھر بہت بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ان الفاظ کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے آپ ﷺ کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے دل میں کہا کہ کاش اب آپ ﷺے خاموش ہو جائیں۔اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ ﷺ میں کمزور آدمی ہوں بہت سی برائیوں میں مبتلا ہوں۔سب برائیاں ایک دم نہیں چھوڑ سکتا آپ ﷺ مجھے ہدایت دیں کہ میں سب سے پہلے کس بُرائی کو چھوڑ دوں آپ ﷺ نے فرمایا ”جھوٹ بولنا چھوڑ دو‘اس نے عہد کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا جب وہ کسی بُرائی کا ارتکاب کرنے لگتا تو اسے یہ خیال آجاتا کہ میری شکایت رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے گی آپ ﷺ مجھ سے دریافت فرما ئیں گے۔جھوٹ میں نے بولنا نہیں سچ بولنا پڑے گا اس لئے یہ بات کرو ہی نہ۔اس طرح آہستہ آہستہ اس نے ساری برائیاں چھوڑ دیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدِ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - دیانت وامانت :۔الله صلى الله اخلاق فاضلہ میں سے ایک خلق امین ہوتا ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کو سارے مکہ کے لوگ امین کہتے تھے۔جیسا کہ پہلے بیان کر چکی ہوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے شادی ہی آپ کی دیانتداری دیکھ کر کی تھی جب حضرت خدیجہ نے اپنا مال دے کر تجارت کی غرض سے آپ ﷺ کو شام کی طرف بھجوایا آپ ﷺ نے دیانتداری کے ساتھ مال کی اتنی نگرانی کی کہ تجارت میں غیر معمولی نفع ہوا اس سے قبل جولوگ حضرت خدیجہ کا مال لے کر جاتے تھے وہ بد دیانتی سے کام لیتے تھے لیکن آپ علی نے نہ خود کوئی مال لیا نہ کسی اور کو لینے دیا۔جب آپ ﷺہ تجارت سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ کے وہ غلام جو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ بھجوائے تھے انہوں نے واپس آ کر کہا کہ ہم نے اپنی زندگی میں ا ایسا دیانتدار شخص نہیں دیکھا۔ا اقتدار نہیں دیکھا۔تحمل بھی اخلاق فاضلہ میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے۔آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت بھی