خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 295
295 ۴۔آپ ﷺ پاکیزگی اور کمال کے باغ کا ایک درخت ہیں اور آپ ﷺ کی اولاد گلاب کے سرخ پھولوں کی طرح ہے۔خود آپ ﷺ فرماتے ہیں بُعِثْتُ لا تَمِّمَ مَكَارِمَ الاخلاق ( کنز العمال جلد 3 صفحہ 18 مطبوعہ حلب) یعنی میری بعثت کا مقصد انسانوں میں اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا تھا۔چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ ﷺ نے عرب کے حبشیوں کو با اخلاق اور پھر با اخلاق سے باخدا انسان بنا دیا۔ابو داؤد میں ایک حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ الْقَلَ مِنْ حُسُنِ الْخُلُقِ مسند احمد بن حنبل کتاب مسند القبائل) کہ خدا تعالیٰ کے تول میں کوئی چیز اعلیٰ اخلاق سے زیادہ وزن نہیں رکھتی۔دراصل اعلیٰ اخلاق ہی نیکی کی بنیاد ہیں روحانیت کی جڑ ہیں۔اعلیٰ اخلاق نام ہے بنی نوع انسان کے ساتھ اعلیٰ ترین سلوک کا اور اسلام کی تعلیم کے دو ہی بڑے ستون ہیں خدا تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق۔اسی لئے نبی کریم ﷺ جو بنی نوع انسان کے سب سے بڑے محسن ہیں آپ نے اللہ تعالیٰ سے لے کر بندہ تک کے حقوق مقرر فرمائے ہیں اور بندوں میں بادشاہ سے لے کر غلام تک کے بارہ میں حقوق ادا کرنے کے متعلق احکام بیان فرمائے ہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم مسکراتے ہوئے چہرہ سے بھی کسی کو ملو گے تو یہ ایک اعلیٰ خلق ہے اور اس کا تم ثواب حاصل کرو گے۔راستے میں کانٹے ہٹا دو گے یا کوئی اور ایسی چیز جس سے ٹھوکر کھانے کا ڈر ہو تو یہ بھی ایک خلق ہے۔اب میں کسی قدر تفصیل سے آنحضرت ﷺ کے اخلاق حسنہ اور ان کے متعلق جو تعلیم آپ علی نے دی اس پر روشنی ڈالتی ہوں۔سچائی:۔سچائی کا جو اعلیٰ ترین معیار آپ ﷺ نے قائم فرمایا اس کی نظر کسی اور مذہب کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔آپ ﷺ میں سچائی اس اعلیٰ درجہ کی پائی جاتی تھی کہ آپ ﷺ قوم میں صادق اور امین کے نام سے مشہور تھے۔قوم میں کسی نام سے مشہور ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ واقعی اس شخص نے اپنے تئیں اس کا صحیح مقدار قرار دیا ہو۔کسی شخص کا صرف سچا اور دیانتدار ہونا کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا مگر ساری قوم کا ایک شخص کو صادق اور امین قرار دینا اہمیت رکھتا ہے۔