خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 12 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 12

تقویٰ عربی زبان میں تقویٰ کے لغوی معنے بچنے اور پر ہیز کرنے کے ہیں۔لیکن مذہبی اصطلاح میں یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو دل میں خیر و شر کی تمیز کی خلش اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کرتی ہے۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تقویٰ اس احساس کا نام ہے جس کی وجہ سے ہر کام میں خدا کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید خواہش اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے شدید نفرت پیدا ہوتی ہے۔قرآن مجید کی اس آیت وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج 33) سے معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کا اصل مقام دل ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے مجمع میں ارشاد فرمایا التَّقْوى ههنا (مسلم کتاب البر وصلتة والآداب) اور یہ کہ کر دل کی طرف اشارہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو تمام نیکیوں کی محرک ہے۔تمام اسلامی احکام کی علت غائی تقویٰ ہے اسلام کی ہر تعلیم کا مقصد انسانی عمل میں تقویٰ کی روح کو پیدا کرنا ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرہ:3) یہ کتاب متقیوں کو ہدایت دیتی ہے۔اسلامی عبادت کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يايها الناس اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرہ:22) یعنی اے لوگو اپنے اس رب کی جس نے تم کو اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے تھے پیدا کیا۔عبادت کرو۔تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔گویا اس آیت میں عبادت کی اصل غرض تقویٰ کا حصول قرار دیا ہے۔عبادت کے ارکان میں سے ایک رکن روزہ ہے۔چنانچہ روزوں کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - (البقره: 184) یعنی تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے اور ان روزوں کے فرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ تم متقی بنو۔اسی طرح احکام اسلامی کا ایک ضروری رکن حج ہے۔اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (ال: 33) یعنی جوکوئی اللہ تعالیٰ کے نشانات کی تعظیم کرتا ہے تو یقیناً یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عبادت میں تمام ارکان نماز ، روزہ، زکوۃ، حج سب کی غرض انسانی دلوں میں تقویٰ کی روح پیدا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔” تقوئی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت وانجیل کی تعلیمات کا۔قرآن کریم نے ایک