خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 283 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 283

283 خطاب جلسہ سالانہ 1963ء پردہ کی اہمیت میں اپنی بہنوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ میری تقریر کو غور سے سنیں تا کہ وہ بہنیں جو کسی وجہ سے راستہ سے بھٹکی ہوئی ہیں صراط مستقیم کو پالیں۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ تم جب بھی کوئی خلاف اخلاق یا خلاف دین بات دیکھو تو تم اسے ہاتھ یا زبان سے روک دو اگران دونوں پر قادر نہ ہو تو کم از کم برامان کر دعا کے ذریعہ سےاسے روکنے کی کوشش کرو۔لیکن یہ تیسرا طریق سب سے ادنی ایمان ہے لہذا اس حدیث کے ماتحت میں آپ کو پردہ کی تاکید کرتی ہوں۔احادیث اور قرآن سے صریحاً ثابت ہوتا ہے کہ پردہ نہایت ضروری ہے بے پردگی قرآنی تعلیم کے خلاف اور احادیث کے خلاف ہے اور شریعت کے خلاف ہے لہذا ہر حال میں پردہ ضروری ہے۔جہاد کے میدانوں میں سے ایک میدان برائیوں کو دور کرنا ہے۔ایک شخص اگر بُرا کام کرے اور دوسرے اسے منع نہ کریں تو لوگ بُرائی کرنے میں دلیر ہو جائیں گے اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اسے روکنے کا سختی سے حکم فرمایا ہے۔بے پردگی آجکل آگ کی طرح پھیل رہی ہے جو اگر رو کی نہ گئی تو ہمارے گھروں میں پہنچ کر ہمیں سخت نقصان پہنچائے گی اور اگر بہنوں کا یہ خیال ہے کہ پردہ کرنے سے دوسروں سے ہمارے تعلقات خراب ہوں گے تو اس کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ہمارا پر دہ ہمارے پیدا کرنے والے کی خاطر ہوگا اور آنحضرت مو کے لئے ہوگا۔جنہوں نے عورت کو قعر مذلت سے نکال کر اسے عزت بخشی۔افسوس ہے کہ وہی عورت جس کے قدموں کے نیچے آنحضرت ﷺ نے جنت قرار دی وہی آج بغاوت کر رہی ہے اور آپ ﷺ کی نافرمانی کر رہی ہے۔اس نافرمانی کی وجہ صرف اور صرف اسلام کی تعلیم سے ناواقفیت اور مغرب کا تنتبع ہے ہندوستان میں انگریز کی حکومت سے وہ مرعوب ہو گئیں لیکن آزادی ملنے کے بعد بھی وہ ذہنی طور پر انگریزوں کی غلام ہی رہیں اور ان کی تقلید میں بے پردگی کو اپنا لیا۔آنحضرت ﷺ کا قول ہے کہ مَنْ تَشَبِّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمُ (ابوداؤد کتاب الیاس باب ليس الشهره) جو شخص اپنی قوم کے شعار کو چھوڑ کر دوسری قوم کے طریق اختیار کرتا ہے وہ گویا انہیں میں سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو احمدی عورتوں کے لئے یہ