خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 284
284 دعا کی ہے کہ ان کے گھر تک رعب دجال نہ آئے۔پس اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اولا د ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں تو آپ کو ان نصائح پر عمل کرتے ہوئے دجالیت سے احتراز کرنا ہوگا آپ نے دجالیت کو دنیا سے فنا کرتا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں گاڑنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن کی پیروی کرنا لازمی ہے کامیاب وہی ہوں گے جو قرآن کے احکام پر چلتے ہیں جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن کی طرف نہ ہو گا وہ کامیاب نہ ہوں گے۔مسلمانوں کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ قرآن کریم میں پردہ کا حکم نہیں ہے۔دوسرا طبقہ کہتا ہے یہ حکم تھا تو سہی لیکن اب قابل عمل نہیں ہے اور تیسرا طبقہ یہ کہتا ہے کہ پردہ میں چہرہ کا ڈھانکنا ضروری نہیں ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں صریح پردہ کا حکم ہے پہلے ازواج مطہرات کو اور پھر مومن عورتوں کو پردہ کا حکم دیا گیا تھا۔پس اب اگر آپ مومن عورتیں ہیں تو آپ کے بھی وہی افعال ہونے چاہئیں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت کو دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تو مسلمان عورت کو وہ اعلیٰ حقوق عطا فرمائے ہیں جو آزاد ممالک کی خواتین باوجود کوشش کے آج بھی حاصل نہیں کر سکیں۔ان حقوق کے ہوتے ہوئے کسی عورت کو جسمانی یا روحانی تکلیف نہیں ہو سکتی ان کو اتنا مرتبہ دیا گیا ہے کہ وہ مردوں کے دوش بدوش کام کر سکتی ہیں۔مسلمان عورتوں کی ترقی یہی ہے کہ وہ قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہوں۔شوہروں کی تسکین کا باعث ہوں۔بچوں کی تربیت کریں۔عفت مجسم ہوں حیا، غیرت اور عفت ان کا جو ہر ہو۔بے پردگی کے ساتھ دوسری چیز جو اس کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے وہ تنگ لباس ہے یہ اس حدیث کے مطابق ہے جس میں آتا ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے اس میں عورتیں ایسی ہوں گی جو بظاہر لباس پہنیں گی لیکن در حقیقت وہ عریاں ہوں گی۔لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مائل ہونے والی ہوں گی ایسی صفات رکھنے والی جنت میں داخل نہ ہوں گی۔جس انجام کی طرف اس میں توجہ دلائی گئی ہے آپ اس سے ڈریں کیونکہ اس میں ہماری اور ہماری اولادوں بلکہ ساری دنیا کی نجات ہے۔ایک طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ پردہ میں چہرہ کو چھپانا ضروری نہیں۔ایسے لوگوں کو بخاری شریف کی وہ حدیث پڑھنی چاہئے جو غزوہ بنی مصطلق کے متعلق ہے اور جس کی روایت حضرت عائشہ نے کی ہے آپ نے اس میں فرمایا ہے کہ صحابی رسول صفوان نے انہیں صرف اس وجہ سے پہچان لیا تھا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو پردہ کے حکم سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا اور پھر فرماتی ہیں کہ جب انہوں نے پہچان لیا تو اپنا چہرہ