خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 251
251 اسلام یہ نہیں سکھا تا کہ فلاں لباس پہنو بلکہ عریاں لباس پہننے سے منع فرماتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو حیا کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔آج کل فیشن میں بہہ جانے والی لڑکیاں اور عورتیں بھی کافی حد تک اس سے متاثر نظر آتی ہیں۔اس قسم کا لباس پہنا جو جسم کی نمائش کرتا ہو آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کے ایک حصہ کی محرومی ہے۔آپ نے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث ضرور پڑھی ہوگی جو آپ ﷺ نے آخری زمانہ کے متعلق بطور پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں ایسی عورتیں ہوں گی جنہوں نے بظاہر لباس پہنا ہو گا لیکن دراصل وہ جنگی ہوں گی۔(ایسی عورتوں پر آپ ﷺ نے لعنت فرمائی)۔پس اپنی چال ڈھال لباس سب کو ایسا بنانا چاہئے جو شریعت اسلام کے خلاف نہ ہو۔منہ سے دعوئی ہم کریں دنیا کو اسلام کی طرف لانے کا اور عمل ہمارا ہو مغربیت کی پیروی کا۔متضاد باتوں سے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے۔اور اس کے ساتھ ساتھ تزکیۂ نفس بھی بہت ضروری ہے۔عبادتوں پر زور دو نوافل پر زور دو۔ذکر اٹھی کرو۔اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرو۔مقناطیس بنے بغیر لوہا کھینچا نہیں جاسکتا۔اپنے اندر ایسا جذب پیدا کریں کہ غیر خود آپ کے نمونہ سے متاثر ہو کر کھینچے چلے آئیں۔پھر آپس میں محبت ہو۔ایک دوسرے کی دلداری ہو۔حسن سلوک ہو۔غریب پروری ہو۔عفو ہو۔تمام بنی نوع انسان کے لئے شفقت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو شرائط بیعت میں بھی ایک شرط رکھی ہے کہ تمام خلق سے ہمدردی رکھے گا۔خدا کی خاطر خدا کے بندوں سے محبت کرو۔کسی سے کینہ نہ رکھو۔کسی سے بغض نہ رکھو اور پھر ان سب کے ساتھ ساتھ نظام کی کامل اطاعت ہو۔نظام کا ہر عہدہ دار خلیفہ وقت کی طرف سے مقرر کردہ ہوتا ہے اس کی نافرمانی کرنے سے خلیفہ وقت کی نافرمانی ہوتی ہے۔اسلام کی ترقی کا راز ہی اطاعت میں ہے۔نماز بھی ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے۔اسلام کی ساری تعلیم گھومتی ہے۔اس محور پر کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِى الأمْرِ مِنكُمُ (النساء : 60) خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو تم پر حاکم مقرر ہو اس کی اطاعت کرو۔نظام سے وابستگی رکھو خلافت سے وابستگی رکھو اور اپنی اولادوں کے دلوں میں خلافت سے محبت اور عقیدت پیدا رکھو یہ ایک بہت بڑا انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ انعام جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مشروط انعام ہے۔جب تک کوئی قوم اپنے تیں خلافت کے انعام کا حقدار رکھتی ہے وہ انعام اس میں قائم رہتا ہے پس ہمیں چاہئے کہ ہم جہاں