خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 250
250 یعنی اللہ تعالیٰ بھی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اس بُرائی کو دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) کوشش کرنے والا آخری منزل مقصود کو پالیتا ہے۔پس ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی دینی روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے اتنی ترقی کریں کہ ساری دنیا کے لئے شمع ہدایت بن سکیں۔اپنی اصلاح کریں اور اپنی اولادوں کی تریبت کریں انہیں علم دین سکھائیں۔سچے مسلمان بنا ئیں اسلام کے شیدائی بنائیں۔دین کے لئے زندگیاں وقف کرنے والے بنا ئیں۔احمدیت کی فتح کا دن جلد سے جلد قریب آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے یقینی ہیں یہ ہمارا کام ہے کہ ہم جلد سے جلد اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے بنیں۔سچائی بہر حال پھیلنی ہے اور پھیل کر رہے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اگر یہ سوال ہو کہ تم نے آکر کیا بنایا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے دنیا کوخود معلوم ہو جاوے گا کہ کیا بنایا۔ہاں اتنا ہم ضرور کہتے ہیں کہ لوگ آکر ہمارے پاس گنا ہوں سے تو بہ کرتے ہیں۔ان میں انکسار فروتنی پیدا ہوتی ہے اور رذائل دور ہو کر اخلاق فاضلہ آنے لگتے ہیں۔اور سبزہ کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے اخلاق اور عادات میں ترقی کرنے لگتے ہیں۔انسان ایک دم میں ہی ترقی نہیں کر لیتا۔بلکہ دنیا میں قانوں قدرت یہی ہے کہ ہر شے تدریجی طور پر ترقی کرتی ہے۔اس سلسلہ سے باہر کوئی شے ہو ہی نہیں سکتی۔ہاں ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ آخر سچائی پھیلے گی اور پاک تبدیلی ہوگی۔یہ میرا کام نہیں ہے بلکہ خدا کا کام ہے۔اس نے ارادہ کیا ہے کہ پاکیزگی پھیلے۔دنیا کی حالت مسخ ہو چکی ہے اور اسے ایک کیر الگا ہوا ہے۔پوست ہی پوست باقی ہے مغز نہیں رہا۔مگر خدا نے چاہا ہے کہ انسان پاک ہو جاوے اور اس پر کوئی داغ نہ رہے۔اسی واسطے اس نے محض اپنے فضل سے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔“ ملفوظات جلد اول صفحہ 494 6495 دنیا کے لئے نمونہ بننے کے لئے ہمیں دو باتوں کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے (۱) اپنی گفتار اپنے لباس کا خیال رکھنا۔ہماری بات چیت سے دوسرے متاثر ہوں نہ کہ ہم دوسروں کی باتوں سے متاثر ہوں۔اپنا نقطہ نظر دوسروں کے سامنے واضح طور پر با دلائل پیش کرنا جس کے لئے گہرے دینی علم کی ضرورت ہے۔اپنی وضع سے دوسروں کو متاثر کرنا خود متاثر نہ ہونا۔اور اس سلسلہ میں اپنے لباس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔