خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 245
245 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1962ء بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ اس نے ایک بار پھر آپ کو اور ہمیں تو فیق دی کہ ہم اکٹھے ہو کر یہ تین دن خالص روحانی ماحول اور ذکر اٹھی میں گزاریں اور اپنا وقت ایسے کاموں اور مشوروں میں صرف کریں جس کے نتیجہ میں ہمارا اگلا قدم ترقی کی طرف اُٹھے۔ہماری تنظیم زیادہ مضبوط ہو۔ہمارے ذریعہ سے احمدیت جو حقیقی اسلام ہے اس کی جڑیں زیادہ مضبوط ہوں اور اس کی شاخیں دنیا کے ہر کونے میں اس طرح پھیل جائیں کہ ساری دنیا اس کے سائے تلے آجائے۔دنیا میں ایک خدا کی حکومت ہو۔ایک ہی کلمہ ہو اور سارے بنی نوع انسان محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کو فخر کا موجب سمجھیں۔اسی غرض سے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تا آپ دنیا کو جو اللہ تعالیٰ سے دور جا پڑی تھی پھر خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھائیں اور ہم متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔اسی لئے آپ فرماتے ہیں۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلْفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ (ال عمران: 104) جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336 ان الفاظ میں آپ نے واضح طور پر اپنی بعثت کی غرض جماعت کو بتائی ہے اور جو ان پر عمل نہیں کرتا وہ حقیقت میں آپ کی جماعت میں سے نہیں ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ توحید کامل پر یقین ہو اور اپنے قول و فعل سے ساری دنیا کو ایک خدا کی پرستش کی دعوت دیں۔ہمارا مطلوب و مقصود صرف اللہ تعالیٰ ہو۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہماری جدو جہد اور ہمارے سارے کام ہوں۔انسان کسی مرشد کامل کے بغیر خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو کامل نمونہ بنا کر بھیجا۔تا کہ ہم آپ ﷺ کی اتباع کریں۔دنیا کے سامنے اپنی تئیں کامل نمونہ بن کر پیش کریں۔لیکن افسوس کہ گودنیا