خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 244 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 244

244 خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ مرکز یہ 1962ء تشہد و تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: آج کا دن بچیوں کے لئے اس لئے مبارک ہے کہ انہیں سال کے بعد پھر ایک دفعہ اپنے مرکز میں اکٹھا ہونے کا موقع ملا ہے اس اجتماع میں حصہ لینے کے ذوق و شوق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچیوں میں دینی شعور روز افزوں اور ترقی پذیر ہے۔یہ خوشنما جھنڈے یہ خوش الحان ترانے یہ تیاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر اس پودے کو سینچا جائے تو یہ با برگ و بار حل بن سکتا ہے۔لیکن ناصرات الاحمدیہ میں شامل ہونے والی بچیوں کے لئے ناصرات کے لفظ کا مفہوم سمجھنا بھی ضروری ہے۔ناصرات الاحمدیہ کا مطلب یہ ہے کہ احمدیت کی مدد کر نیوالی بچیاں احمدیت کی مدد اسی طرح ہو سکتی ہے کہ تم احمدیت کے لئے چٹان ثابت ہو جاؤ۔تمہارے اندر احمدیت کے لئے ہر قسم کی قربانی کا جذبہ ہو آپ نے ناصرات الاحمدیہ کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا یہ زمانہ تربیت کا زمانہ ہے۔اس کے بعد کام کا زمانہ آئے گا۔آج اگر تیاری کرو گی تو کل احمدیت کے لئے ستون بن سکو گی۔احمدیت کے قیام کی اغراض و مقاصد یہی ہیں کہ ہم اسلام کا صحیح مفہوم سمجھیں۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ سے واقفیت ان کی کامل اطاعت و فرمانبرداری اور ان کے اقوال و اعمال کی مکمل پیروی ہی سے۔ہم صراط مستقیم حاصل کر سکتی ہیں۔اسلام سے واقفیت تم میں وہ جذبہ وہ امنگ وہ تڑپ پیدا کر دے گی کہ تم ساری کائنات پر دین کا پیغام لے کر چھا جاؤ۔نگرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حلقہ جات کی ناصرات کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ وہ ایک نمایاں کردار کی مالک ہو جائیں۔آپ نے بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس عمر میں اچھی عادات اپنانے کی تلقین کی اور انہیں موجودہ زمانے میں مغربیت کی تقلید میں فیشن پرستی کے نقصانات سے آگاہ کیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ “ (بخاری کتاب الایمان) اس ارشاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ناصرات کی ہر ممبر کا فرض ہے کہ وہ نیکی۔حیاء اور وقار کو اپنا شعار بنائے۔دین کے لئے غیرت۔سچائی۔امانت داری۔ایک احمدی بچی کی نمایاں خصوصیات ہونی چاہئیں۔مصباح نومبر 1962 م