خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 246 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 246

246 کی ساری خوبیاں اسلام نے پیش کیں اور دنیا کے سامنے قرآن کی شکل میں ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کیا۔لیکن آج مسلمان نام کے مسلمان ہیں وہ مغربیت کی پیروی کرنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں وہ یورپ اور امریکہ کی تہذیب سے انتہائی متاثر نظر آتے ہیں۔ہاں اس تہذیب سے جس سے خود یورپ اور امریکہ والے بیزار نظر آرہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان الجھنوں کا کوئی حل تلاش کریں۔اخلاقیات کا جوسبق قرآن کریم سکھاتا ہے ایسا مکمل اور جامع سبق نہ کوئی اور مذہب پیش کرتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی قوم۔لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلمان ان پر عمل نہیں کر رہے۔اگر قرآن کریم کی تعلیم پر ہم پورے طور پر عمل کریں تو مسلمان دنیا کی کسی قوم سے شکست نہیں کھا سکتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہم نے زندہ خدا کا چہرہ دیکھا۔اپنی آنکھوں سے صدہا نشانات کو پورا ہوتے دیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھا۔اس لئے احمدی جماعت کے مردوں اور عورتوں کو جو خدائے واحد پر ایمان ہو سکتا ہے اور ہے وہ اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔لیکن ہم میں عملی کمزوریاں ابھی بہت باقی ہیں جن کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو اپنی جماعت کی اصلاح کی فکر اور تڑپ تھی وہ ان الفاظ سے کسی قدرظاہر ہوتی ہے:۔دو ہر ایک آدمی کچی تبدیلی کا محتاج ہے جس میں تبدیلی نہیں ہے وہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى کا مصداق ہے۔مجھے بہت سوز و گداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی ہو جو نقشہ اپنی جماعت کی تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَنْ لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ۔(الشعراء: ۴) پھر آپ فرماتے ہیں:۔میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جاویں اس سے کچھ فائدہ نہیں۔تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔۔۔تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 351 352 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو جو نصائح فرمائی ہیں ان میں بار بار اسی پر زور دیا ہے کہ میری بعثت کی غرض یہی ہے کہ میں تمہارے اندر خدا تعالیٰ پر ایسا کامل ایمان پیدا کروں جس کے نتیجہ میں ایک پاک تبدیلی تم میں پیدا ہو اور بدیوں سے محفوظ رہو۔ایک نئی زندگی تمہیں حاصل ہو۔آپ فرماتے ہیں:۔