خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 233 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 233

233 عشق الہی سے معمور زندگی رسول مقبول ﷺ کی ساری زندگی عشق الہی سے معمور نظر آتی ہے یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ محمد ﷺ اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔آپ کو رات اور دن عبادت میں مشغول رہتے تھے۔نصف رات گزرنے پر آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور صبح تک عبادت کرتے چلے جاتے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ تو خدا تعالیٰ کے محبوب اور مقرب ہیں آپ ﷺ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا عائشہ افلا اكون عبدا شکور ا یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے کہ اس کا قرب مجھے حاصل ہے۔کیا میرا یہ فرض نہیں کہ میں اس احسان کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کروں۔خدا تعالیٰ کا کلام سنتے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے قرآن سناؤ میں نے جواب دیا یا رسول اللہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے میں آپ ﷺ کو کیا سناؤں۔آپ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے بھی سنوں۔اس پر میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجَتْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء 42) یعنی اس وقت کیا حال ہوگا۔جب ہم ہر قوم میں سے اس نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے۔تو رسول اللہ علی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور آپ نے نہایت رقت سے فرمایا بس کرو۔نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے بلکہ لیٹ کر پڑھنے کی اجازت تھی۔مگر آپ ﷺے سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے۔خدا تعالیٰ کی غیرت خدا تعالیٰ کے لئے آپ ﷺ کی غیرت کا واقعہ اسلام کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ مکہ کے لوگوں نے ہرقسم کی کوشش کی کہ آپ ﷺے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دیں لیکن جب دیکھا کہ آپ پر ان کی باتوں تکلیفوں اور کوششوں کا کوئی اثر نہیں تو انہوں نے آپ ﷺ کے چا ابوطالب کے ذریعہ سفارش کروائی کہ اگر مال و دولت کی ضرورت ہے تو وہ حاضر ہے شادی کرنا چاہتے ہیں تو خوبصورت