خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 234 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 234

234 سے خوبصورت لڑکی کی شادی کروا سکتے ہیں۔سرداری کی خواہش ہے تو ہم اپنا لیڈر بنالیں گے۔مگر ہمارے بتوں کو بُرا نہ کہیں۔ابو طالب آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو کہا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میری قوم مجھے چھوڑ دے گی۔آپ نے فرمایا اے چا! آپ بے شک مجھے چھوڑ دیں۔اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر بھی کھڑا کر دیں تو میں خدائے واحد کی پرستش سے باز نہیں آسکتا۔اور اس کی تو حید کو دنیا میں پھیلانے کا کام نہیں چھوڑ سکتا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - جنگ اُحد کے موقعہ پر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ ﷺ کے شہید ہونے کی خبر مشہور ہو گئی۔دشمن خوش تھا اور سمجھ رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا ہے۔ابوسفیان نے بلند آواز سے کہا کہ محمد قتل کر دیئے گئے اور ابو بکر اور عمر بھی مارے گئے۔حضرت عمر برداشت نہ کر سکے جواب دینا چاہا۔مگر نبی کریم ﷺ نے اس وقت جواب دینا مصلحت نہ سمجھا اور جواب دینے سے منع فرمایا۔کفار کو جب کوئی جواب نہ ملا تو انہوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اُعْلُ هُبل۔اُعْلُ هُبَل آپ برداشت نہ کر سکے۔آپ ﷺ نے فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ کیا جواب دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا اللهُ اعْلَی وَاَجَل۔اللَّهُ أَعْلَى وَاجَل اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔اس پر ابو سفیان نے پھر کہا لَنَا عُزّى وَلَا عُزّى لَكُمْ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کہو اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلى لَكُم تم کہو ہمارا دوست خدا ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد ) ایسے خطرناک موقعہ پر جب کہ مسلمان پراگندہ ہو گئے تھے مشرکین مکہ کا مسلح لشکر موجود تھا۔خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنے میں آپ ﷺ نے اپنی جان کی پروا کی نہ اپنے اصحاب کی۔آنحضرت ﷺ کے اکلوتے بیٹے حضرت ابراہیم جب ڈیڑھ۔دو سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اس دن سورج کو بھی گرہن لگا۔چند لوگوں نے مدینہ میں مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول اللہ کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا۔جب آپ ﷺ کو یہ خر پہنچی تو آپ نے سختی سے اس کی تردید فرمائی۔اور فرمایا چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے مقررہ قانون کو ظاہر کر نیوالی ہستیاں ہیں۔ان کا کسی کی حیات اور موت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔( بخاری کتاب الخسوف) مثالیں تو سینکڑوں ہیں لیکن وقت اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سب کو بیان کیا جاسکے۔اس لئے