خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 232
232 آیت صلوتی وَنُسُکی کی مزید تشریح رسول کریم ﷺ کی شریعت میں سال سے زیادہ ہوئی۔تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت اور اللہ تعالیٰ سے بے کراں محبت جوش مارنے لگی اور آپ مکہ کے لوگوں کی شرارتوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی ایک غار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے۔حضرت خدیجہ چند دن کی غذا آپ ﷺ کے لئے تیار کر دیتیں اور آپ وہ لے کر غار حرا میں چلے جاتے اور پتھروں پر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات دن مشغول رہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام برکات الدعا میں تحریر فرماتے ہیں:۔وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امت بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں اللهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَغَمِّهِ وَحُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَاَنْزِلْ عَلَيْهِ انْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْاَبَدِ۔روحانی خزائن جلد 6 برکات الدعا صفحہ 11 الدعاصفحہ اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت ﷺ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔جو کہ ملکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا۔وہ سب آنحضرت ﷺ کی دعاؤں کا اثر تھا۔الحکم 17 ستمبر 1907ء پھر فرماتے ہیں:۔یہ نور ہدایت جو خارق عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا۔اور پھر دنیا میں پھیل گیا یہ آنحضرت ﷺ کی دلی سوزش کی تاثیر تھی ہر ایک قوم توحید سے دور اور مجبور ہوگئی۔مگر اسلام میں چشمہ توحید جاری رہا۔یہ تمام برکتیں آنحضرت ﷺ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔روحانی خزائن جلد 22 حقیقۃ الوحی صفحہ 103 حاشیہ