خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 231 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 231

231 دعا کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) فَلا تَذْهَبُ نَفْسُكَ عَلَيْهِمُ حَسَرَاتٍ (فاطر: 9) کیا تو اس غم اور اس سخت محنت میں جولوگوں کے لئے اٹھا رہا ہے۔اپنے تئیں ہلاک کر دے گا اور کیا ان لوگوں کے لئے جو حق کو قبول نہیں کرتے تو حسرتیں کھا کھا کر اپنی جان دے گا۔روحانی خزائن جلد 10 اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 448۔447 449 پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔کامل انسان محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون ہو گا دیکھو جب انہوں نے اپنی جان اپنا مال ، اپنی حیات، اپنی ممات رب العالمین پر قربان کر دیئے یعنی سارے کے سارے خدا کے ہو گئے تو کیسا خدا ان کا ہوا اور کیسے فرشتوں نے ان کی مدد کی۔اگر وہ فرشتوں سے مدد نہ کرتا تو ممکن نہ تھا کہ ایک یتیم بچہ دنیا کو مغلوب کرلیتا۔وَاذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا کا وہی عامل گذرا ہے یعنی لڑائی کے وقت جب جھاگ منہ سے جاری ہے اور مارے غصہ کے آدمی جل رہا ہے۔اس وقت بھی یہ حکم ہوتا ہے کہ خدا کو یاد کر کے کسی پر وار چلانا۔ان دشمنان دین کے مقابلہ پر جنہوں نے سینکڑوں صحابہ کو ذبح کر دیا تھا۔فتح مکہ پر کیسا خدا کو یا د کیا اور کیسا ترحم دکھایا۔۔الحکم 10 فروری 1905ء اب میں اس آیت کی تشریح کسی قدر تفصیل سے کروں گی تا کہ آپ کو بتاؤں کہ ہمارے آقا محمد ﷺ کی ساری زندگی کس طرح صرف اور صرف رب العالمین کی خاطر گزری۔خدا تعالیٰ کا یہ ایک نہایت عظیم الشان نشان اور اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے حالات اتنے محفوظ ہیں۔اس لئے جس خلوص سے انسان نبی کریم ﷺ کی ذات سے محبت کر سکتا ہے اور کسی ذات سے نہیں کر سکتا۔آپ کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ کی سیرۃ طیبہ کا ایک ایک پہلو روز روشن کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور روح خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ ادا کرنے کے لئے آستانہ الہی پر جھک جاتی ہے۔اور منہ سے بے اختیار نکل جاتا ہے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ -