خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 220
220 خطاب جلسہ سالانہ 1960ء ”وقف زندگی کی اہمیت آپ نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد وقف زندگی کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وقف زندگی کا تعلق مردوں سے تو ہے ہی لیکن عورتوں پر بھی بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ تعلیم جو ایک مسلمان کو صحیح معنوں میں مسلمان بناتی ہے ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے بچہ راہ عمل شروع کرتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ احمدی بچے وہ درس حیات لے کر پروان چڑھیں جو ایک سچے مسلمان کا طرہ امتیاز ہے۔بہت ممکن ہے کہ ان ہی میں سے کوئی محمد بن قاسم ، خالد بن ولید یا طارق بن زیاد پیدا ہو جو محمد رسول اللہ اور اسلام کی شان کو چار چاند لگا دے۔جو محمد رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچانے والے ہوں۔جو خدا تعالیٰ کا نام دنیا کے کونے کونے میں بلند کریں۔اور اسلام کا پرچم اس شان سے ہرا ئیں کہ تمام دنیا حلقہ بگوش اسلام ہولیکن یہ سب کچھ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے نہیں ہو سکتا اس کے لئے ضرورت ہے ابراہیم کی سی بے مثال قربانی کی۔اس کے لئے ضرورت ہے ہاجرہ کے سے صبر و استقلال کی۔اور اس کے لئے ضرورت ہے اسمعیل کی سی عدیم المثال اطاعت و فرمانبرداری کی۔حضرت ابراہیم کی عظیم الشان قربانی کو خدا تعالیٰ نے اتنا نوازا اتنا نوازا کہ آپ کی ذریت میں سے وہ نبی پیدا ہوا جو شہ لولاک ہے۔پس ان تین بزرگ ہستیوں کی قربانی ہر ماں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان کی طرح اپنی زندگی وقف کریں اور اس وقف زندگی کی اس زمانہ کے لحاظ سے سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نیک تربیت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے ہر ماں اپنے جگر گوشہ کو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اسلام کی بقاء کے لئے اور حضرت محمد علی کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے اچھی تربیت دے پھر اسے وقف کر دے۔ان کو بچپن ہی سے ایسی تعلیم دے جن سے ان کے دلوں میں اسلام کی محبت اور خدا تعالیٰ کی عظمت قائم ہو۔وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں وہ میدان عمل میں کوئی پناہ گاہ تلاش کرنے کی بجائے صف اول میں سرگرم عمل نظر آئیں۔ربوہ میں جامعہ احمدیہ کی درسگاہ اور مختلف تنظیموں کا قیام محض اور محض اسی غرض کے لئے ہے کہ ہماری جماعت کے بچے اس میں تعلیم حاصل کریں اور اسلام کے جانباز سپاہی بنیں۔