خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 219 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 219

219 جاوے جس میں منہ سے بولے بغیر عمل کے ساتھ تبلیغ کی جاسکتی ہے۔ہماری یہ خدمت کسی خاص فرد یا فرقہ کے لئے نہیں ہونی چاہئے۔بلکہ بلا تفریق مذاہب ہونی چاہئے۔نیز رپورٹوں میں اس خدمت خلق کا ذکر ہو جو اجتماعی ہوں۔انفرادی خدمت تو ہر شخص کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔اس سال ابتدائی طبی امداد سکھانے کا کام بھی شعبہ خدمت خلق کے سپرد کیا گیا ہے۔تعلیم القرآن کلاس کے نصاب میں بھی ابتدائی طبی امداد کا مضمون شامل کیا جائے گا۔تربیت اولاد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بچیوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ کریں کیونکہ آئندہ سب بار ان پر پڑے گا۔اس لئے ان کو ہر لحاظ سے تیار کرنا چاہئے۔رشد و اصلاح کے شعبے کے متعلق یہ بات لازمی ہے کہ ہر احمدی خاتون احمدیت کی اشاعت میں حصہ لے۔اصل کام وہ ہوتا ہے جس کا نتیجہ نکلے۔اگر وہ کام بے نتیجہ ہے تو وہ کام نہیں۔جیسے ربوہ۔راولپنڈی۔کراچی کی نمائندگان نے بتایا ہے کہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں اور کوششوں سے کئی خواتین احمدیت سے وابستہ ہو گئیں ہیں۔اگر صحیح رنگ میں کام کریں تو ہزاروں بھٹکی ہوئی روحیں احمدیت کو قبول کر کے سکون پاسکیں گی۔سال رواں میں ربوہ۔کراچی۔سیالکوٹ۔راولپنڈی۔کوئٹہ۔ملتان چھاؤنی۔سرگودھا۔لاہور۔لائکپور۔جہلم۔شیخوپورہ۔حافظ آباد۔کوہ مری۔کنری اور دیہاتی لجنات میں سے کوٹ سلطان۔بشیر آباد اسٹیٹ محمد آباد اسٹیٹ۔اور احمد نگر اچھا کام کرنے والی لجنات قرار دی گئیں۔تمام لجنات میں سے اول لجنہ اماءاللہ ربوہ دوم لجنہ اماءاللہ کراچی سوم: لجنہ اماءاللہ راولپنڈی ہیں۔اس طرح تین دن کا مبارک اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔