خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 218 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 218

218 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1960ء میں امید کرتی ہوں کہ آپ واپس جا کر ان ممبرات کو جو یہاں نہیں آسکیں فائدہ پہنچائیں گی۔یہ اجتماع کوئی نیا طریق نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی یہی دستور تھا کہ مختلف جماعتوں کی طرف سے نمائندگان آتے اور واپس جا کر باقی ماندہ لوگوں کو اسلام سکھاتے۔ہر شخص مرکز میں نہیں آ سکتا جو نمائندگان آتے ہیں ان کا فرض ہے کہ دوسروں کو جا کر سکھائیں وہ تجاویز جو یہاں پیش کی گئی ہیں دوسروں کو ان سے آگاہ کریں اور عمل کریں۔یہ تقریری مقابلے جو یہاں ہوتے ہیں وہ خاص غرض کے لئے رکھے گئے ہیں۔کیونکہ جو بچیاں اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں ان کا اپنا بھی علم وسیع ہوتا ہے اور جو سنتی ہیں وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔میں امید کرتی ہوں کہ آپ نے ان تین دنوں کو ضائع نہیں کیا بلکہ ان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔آپ بھی مرکزی اجتماع کے طریق پر سالانہ جلسے منعقد کیا کریں۔جہاں میں جاسکتی ہوں وہاں ضرور آؤں گی۔اور مرکزی کارکنات کو بھی ساتھ لاؤں گی۔آئندہ سال کے لئے رپورٹوں کو پرکھنے کے معیار کے جو نمبر مقرر کئے گئے تھے اس میں کچھ تبدیلی کا اعلان کیا جاتا ہے متفرق تحریکات کے نمبر 20 کی بجائے 10 ہوں گے۔رپورٹ با قاعدہ اور بر وقت مرکز میں بھجوانے کے 10 نمبر۔نیز آئندہ کے لئے تقاریر کے دو کی بجائے تین معیار ہوں گے۔معیار اول میں بی اے پاس یا اس سے زیادہ تعلیم والی خواتین شرکت کریں گی۔معیار دوم میں ایف اے سال دوم سے بی اے سال دوم تک کی لڑکیاں شمولیت کریں گی اور معیار سوم میں ایف اے سال اول سے نیچے کی لڑکیاں۔نیز ایسے مقابلے بھی ہوا کریں گے جن میں قرآن کریم۔حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق سوال بھی کئے جائیں گے۔یہ بھی پوچھا جائے گا کہ دوران سال لڑکیوں نے کتنی اور کون سی کتابیں پڑھیں اور ان کی تصدیق ان کی صدر صاحبہ کریں گی۔عہدیداران کا سالانہ امتحان ہوا کرے گا۔خدمت خلق کے شعبہ کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ اپنے مذہب اور اپنے دین سے لوگوں کو روشناس کرانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ خدمت خلق میں حصہ لیا