خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 169 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 169

169 حضرت اماں جان کے پاکستان جانے کے اغلباً چھ روز کے بعد ہم لوگ بھی لاہور آگئے تھے جس دن حضور نے فیصلہ کیا کہ لاہور جانا ہے۔شام کو فیصلہ ہوا بے حد مختصر سا سامان ایک بستر دو تین جوڑے، حضور کے اپنے رکھ کر سامان تیار کر لیا۔اٹیچی کیس میں اہم اور ضروری کاغذات رکھ لئے اگلے دن صبح حضور دفتر سے اور حضرت اماں جان کے گھر سے میں اور منصورہ بیگم دار السلام پہنچے اور وہاں سے میاں منصور احمد کی کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔آگے آکر اس کام میں جو کپیٹن عطا اللہ لے کر گئے تھے۔جب قادیان سے روانہ ہوئے تھے تو خیال بھی نہ تھا کہ پھر جانا نہ ہوگا۔لاہور آتے ہی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔چند روز شیخ بشیر احمد صاحب کے ہاں مہمان رہ کر رتن باغ آگئے۔آتے ہی مہاجرین کی آمد، رات دن کام، ہر قسم کی ذمہ داری، حضور کو تسلی نہ ہوتی تھی۔موٹریں، بس ٹرک آتے۔جب تک ہر ایک کا ٹھکانہ نہ بن جاتا ، سامان اسے نہ پہنچ جاتا آپ کو نہ کھانا کھانے کی ہوش ہوتی تھی نہ آرام کی رتن باغ کے پچھلے حصے میں سائبان اور قناتیں لگا کر عورتوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔بعض تو ایک ایک دو دون میں اپنے مستقل ٹھکانہ پر چلی جاتیں تھیں اور بعض کا وہاں لمبا قیام رہا۔ان کے کھانے ، کپڑے، بستروں کا انتظام کرنا ، انہیں دنوں آدھی رات کو ایک رات میں اور حضرت سیدہ ام داؤد عورتوں میں کمیل تقسیم کرتے رہے۔کمبل پر انے تھے۔ان میں مٹی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں شدید بہار ہوگئی ، گلے میں درد اور گلے سے خون الٹی کے رنگ میں آنے لگ گیا۔کئی دن شدید بیمار پڑی رہی۔ان دنوں مہاجر عورتوں کا سارا انتظام حضور کی راہنمائی میں میں نے سیدہ اُمِ داؤد اور ان کی صاحبزادی بشری بیگم نے ہی زیادہ کیا۔ہمارے ساتھ بہت سی معاون خواتین اور بچیاں بھی تھیں۔عورتوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی اٹھا کر ادھر ٹرکوں سے اتار کر کیمپ میں لے جاتے اور کسی عورت کو ولادت بچہ کے آثار شروع ہو جاتے۔تو نہ ڈاکٹر ملتا تھا نہ دوائی۔ڈاکٹر ڈھونڈنا ضروری لوازمات مہیا کرنے سب کچھ ہی ہمارے سپرد تھا۔اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے سلسلہ میں حضور کے پاس جاتی اور آپ ہی راہنمائی فرماتے۔لکھنا کیا شروع کیا تھا اور پہنچ کہاں گئی؟ بہر حال تاریخ کی اس جلد سے سب گذرے ہوئے واقعات فلم کی طرح سامنے آئے اور دل سے آہیں نکل نکل کر لبوں تک آگئیں۔دل میں ایک در داٹھا اور ساتھ جانے کیا کیا یاد آ گیا۔حضرت مصلح موعود کے ساتھ گذرا ہوا وہ زمانہ اور آپ کی ہدایت اور راہنمائی سے کی ہوئی خدمات میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے تاریخ احمدیت لکھ کر