خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 168
168 تاریخ احمدیت جلد 11 حضرت مصلح موعود کی اولوالعزمی کی خوبصورت تصویر ہے نوٹ درج ذیل معلومات افزا اور نہایت قیمتی مکتوب حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے 28 فروری 1971 ء کو مولف تاریخ احمدیت کے نام رقم فرمایا۔بسم الله الرحمن الرحیم مکرم شاہد صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تاریخ احمدیت جلد گیارہ مل تو جلسہ سالانہ سے قبل ہی گئی تھی لیکن اتنا وقت نہ ملا کہ اسے پڑھ سکوں۔رات سب کام چھوڑ کر اس کو پڑھنا شروع کیا اور صبح کے قریب ختم کی۔ایک کتاب دلچسپ، پھر اس زمانہ کی تاریخ جس کے شب و روز کے ساتھ اپنی داستان بھی وابستہ ہے۔کتاب ختم کرنے کے بعد بھی سونہ سکی۔نیند آ بھی کیسے سکتی تھی؟ ہر واقعہ ایک فلم کی طرح نظروں کے سامنے گذرنے لگا۔قادیان ہجرت کے آخری ایام میں جب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب خواتین لاہور تشریف لے جا چکی تھیں اور صرف میں اور عزیزہ منصورہ بیگم سلمها قادیان میں تھیں خاندان کے سب افراد کے کھانے ناشتہ وغیرہ کا انتظام عزیزہ منصورہ بیگم سلمہا کے ذمہ تھا۔اور میرا سارا وقت حضرت مصلح موعود کی خدمت میں گذرتا تھا۔کھانا، ناشتہ وقت پر عزیزہ منصورہ بیگم نہیں قصر خلافت میں بھجوا دیتی تھیں۔صبح سے شام تک حضور کا ایک ایک لمحہ بے حد مصروفیتوں کا حامل تھا۔ایک ایک منٹ پر فون آتے تھے۔رپورٹیں آتی تھیں، ہدایات جاری فرماتے تھے۔کھانا پڑا پڑا ٹھنڈا ہو جاتا تھا لیکن جب تک ایک کام کو ختم نہ فرمالیتے کھانا نہ کھاتے فکر اور پریشانی سے بھوک بھی آپ کی اس قدر کم رہ گئی تھی کہ ان دنوں ایک دو نوالوں سے زائد نہ کھا سکتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ حضور نے ایک دن کہا مجھ سے بالکل کھانا نہیں کھایا جاتا مجھے دو تین چمچے شہد ڈال کر شربت بنا کر دے دو۔ایک دو گھنٹہ کے بعد تا جسم میں طاقت قائم رہے۔رات آتی تب بھی قادیان کے گردو نواح کے متعلق اطلاعات کے فون آتے رہتے۔آدھی رات حضور اور آدھی رات میں باری باری سوتے تھے۔جب حضور سونے لگتے تو مجھے جگا دیتے کہ اب تم جا گواگر کوئی اہم اطلاع آئے تو مجھے جگا دینا۔