خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 161 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 161

161 جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم و ساکت ولا جواب کر سکتے ہیں وہ غیر محدود و معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔اگر قرآن شریف اپنے حقائق دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک خواندہ نا خواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف دقائق اپنے اندر رکھتا ہے جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتاوہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔“ روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام ص 256 اس پر عمل نہ کرنے کے باعث مسلمان اپنی شان و شوکت کھو بیٹھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَاعْتَصِمُو ابِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (ال عمران : 104) لیکن مسلمانوں نے جب سے اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت کو بھلا دیا۔غیر اقوام کا ان پر غلبہ ہو گیا۔اتحاد جاتا رہا مسلمانوں میں احساس پیدا بھی ہوتا ہے کہ جب تک وہ متحد نہ ہوں گے ان کا ایک مرکز نہ ہوگا۔ایک امام نہ ہوگا وہ کھوئی ہوئی شان و شوکت مل نہیں سکتی۔ہمارے اخبارات بھی وقتاً فوقتاً اس رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں ابھی حال میں ہی ایک شاعر کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی نظم ایک رسالہ میں میں نے پڑھی۔لیکن افسوس بھی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو سورج طلوع ہو چکا ہے اب جان بوجھ کر کوئی آنکھیں بند کرے یا دھوپ دیکھ کر بھی اندھیرا کہے تو اس کا کیا علاج وہ شعر یہ ہیں۔فسق ہے زوروں پہ اور انصار دیں ناپید ہیں ہے بدی کا دور ابرار دیں ناپید ہیں ذہن چھایا ہے ابتک علم مغرب کا اثر فلسفہ کا زور ہے افکار دیں ناپید ہیں کاش کوئی ہادی برحق ہو ظاہر غیب سے اتنی تاریکی ہے اور انوار دیں ناپید ہیں