خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 154 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 154

154 مجھ کو ہلاک کرنے کو سب ایک ہوگئے سمجھا گیا میں بد۔پہ وہ سب نیک ہوگئے آخر کو وہ د قدیر ہے خدا جو کریم علیم و خبیر ہے جو عالم القلوب اترا میری مدد کیلئے کر کے عہد یاد پس ره گئے وہ سارے سیه رو و نامراد اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنادیا میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا ( در شین صفحه 116-117 ) اللہ تعالیٰ نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کی ایک ایسی پاک جماعت عطا فرمائی جنہوں نے خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اپنی عزیز ترین چیز پر بھی ترجیح دی، آپ کی صحبت میں تمام برائیاں چھوڑ کر با اخلاق بلکہ با خدا انسان بن گئے۔آپ کی ایک آواز پر شراب چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی محبت کی شراب پینے لگے۔اسی طرح آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب کو بھی اللہ تعالیٰ پر وہ زبر دست ایمان عطا فرمایا کہ انہوں نے قتل ہونا منظور کر لیا سنگسار کئے گئے مگر خدا تعالیٰ کا دامن جو تھا وہ آخر وقت تک نہ چھوڑا۔اس وقت دنیا میں اسلام کے سوا کوئی اور مذہب ایسا موجود نہیں جو تازہ بتازہ نشانات دکھا سکے یہ فخر اور امتیاز صرف اسلام کو اس لئے حاصل ہے کہ یہ زندہ مذہب ہے۔اس کے ماننے والے آج بھی کلام الہی سے مشرف ہوتے اور یہ مرتبہ صرف محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو ہی حاصل ہے کہ آپ کے غلاموں کو اللہ تعالیٰ چھوتا ہے ان کے ذریعہ دنیا کو تازہ تازہ نشانات دکھاتا ہے آپ کی غلامی اور اطاعت سے باہر یہ درجہ اب کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں یہ فرما دیا ہے کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (ال عمران : 32) اے محمد رسول اللہ دنیا کو بتادیں کہ اگر کسی کو خدا تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور محبت حاصل کرے تو اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ میری کامل اطاعت کرو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور آپ کی فرمانبرداری۔آپ کی تعلیم اور آپ کے احکام پر چل کر ہی اللہ تعالیٰ کا