خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 155
155 قرب حاصل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔آج کسی اور مذہب کو یہ دعوی نہیں کہ ان کے مذہبی احکام پر چل کر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ اُس سے کلام کر سکتا ہے لیکن ہزاروں در ورد اور سلام حضرت خاتم النبین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی غلامی اور اطاعت میں قرب الہی کا بڑے سے بڑا درجہ انسان حاصل کر لیتا ہے اس کیلئے اللہ تعالیٰ نشانات دکھاتا ہے آسمان سے اس کی مددکواتر تا ہے۔چودہ سو سال کے عرصہ میں مختلف لوگوں کو قرب الہی کے مختلف مراتب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ملتے رہے۔ہر صدی کے سر پر مجدد آئے اور صحیح اسلام کو اپنے پاک نمونہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ثابت کیا۔حضرت جنید شبلی، سید عبدالقادر جیلانی ، شہاب الدین سہر دردی، خواجہ معین الدین چشتی سید احمد سرہندی وغیرہ اپنے اپنے وقت میں اسلام کی زندگی کے ثبوت میں دنیا کے سامنے کھڑے ہوئے اور دنیا کی اصلاح ان کے ذریعہ ہوتی رہی۔صداقت اسلام کے تازہ نشانات: موجودہ زمانہ میں جب دُنیا پھر خالق حقیقی سے دور ہو چکی تھی اور خالق اور مخلوق میں تاریک پر دے حائل ہو گئے تھے۔فلسفہ اور دہریت نے روحانیت کو کچل کر رکھ دیا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہو چکی تھی۔معجزات انبیاء کو قصہ پار یہ قرار دے دیا گیا تھا۔ہر مسئلہ کو فلسفہ اور سائنس کی روشنی میں دیکھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا جس کا دعوی یہی ہے کہ آپ کو جو کچھ ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ملا۔آپ فرماتے ہیں:۔”ہم یقیناً جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نبی اور سب زیادہ پیارا جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ دوسرے نبیوں کی امتیں ایک تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں اور صرف گزشتہ قصے اور کہانیاں ان کے پاس ہیں مگر یہ امت ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تازہ بتازہ نشان پاتی ہے۔لہذا اس امت میں اکثر عارف ایسے پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر اس درجہ کا یقین رکھتے ہیں کہ گویا اس کو دیکھتے ہیں اور دوسری قوموں کو خدا تعالیٰ کی نسبت یہ یقین نصیب نہیں لہذا ہماری روح سے یہ گواہی نکلتی ہے کہ سچا اور صحیح مذہب صرف اسلام ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات صرف