خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 119 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 119

119 عمل کرتی اور اس میں یونیورسٹیاں قائم کرتی ہے کہ علوم میں ترقی ہو ملک کی صنعت و حرفت میں ترقی ہو اور لوگ ان درسگاہوں سے تعلیم حاصل کر کے جب نکلیں تو وہ دینی اور دنیوی علوم میں نئی نئی تحقیقات سے کام میں وہ علم الاخلاق کو ترقی دیں وہ علم الادیان کو ترقی دیں وہ علم الابدان کو ترقی دیں وہ علم الحشرات کو ترقی دیں وہ علم النفس کو ترقی دیں غرض نئے نئے علوم پیدا کریں اور نئی نئی ایجادات ملک کو ترقی کے لئے کریں تو بتاؤ اس ترقی کے لئے پھر اور کسی چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نبوت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے نظام نو کا پیج رکھ دیا تھا۔اور آپ ﷺ کے اخلاق شروع سے ہی ایسے تھے جن پر آئندہ دنیا کانیا نظام قائم ہونے والا تھا۔“ صفت رب العالمین کی جلوہ گری:۔غرض اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہوئی۔ازل سے عالمین کی ربوبیت اس لئے فرمائی کہ کامل انسان سرور دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا ہونا تھا جس کے لئے مولیٰ کریم نے خود فرمایا دیا کہ آپ ﷺ کی خاطر یہ سب زمین و آسمان پیدا کئے گئے ہیں۔یہ سارے جہان کی ربوبیت اور یہ فیض اعم ازل سے آپ ﷺ کی خاطر جاری تھا اور آپ کی خاطر جاری رہے گا اور آپ ﷺ کے ذریعہ یہ صفت یوں آن بان سے ظاہر ہوئی کہ ایک بے کس و بے زر کو تمام دنیا کا آقا اور سردار بنا دیا آپ ﷺ کی امت کو خیر امت قرار دیا گیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپ کی اطاعت کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ کر دی گئی۔اور آپ ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت یوں بھی جلوہ گر ہوئی کہ آپ ﷺ نے ایک ایسی قوم کی جو دنیا کی گری ہوئی قوم تھی۔ایسی ربوبیت فرمائی کہ وہ نہ صرف با اخلاق انسان بن گئے بلکہ با اخلاق انسان سے باخدا انسان بن گئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اوائل صدر اسلام میں جب کہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل و کرم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ کو وہ قوت قدسی عطا ہوئی کہ جس کے قومی اثر سے ہزاروں با خلاص اور جان نثار مسلمان پیدا ہو گئے آپ ﷺ کی جماعت ایک ایسی قابل قدر اور قابل رشک جماعت تھی کہ ایسی جماعت کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوملی اور نہ حضرت عیسی علیہ السلام کو میں نے اس امر