خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 118 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 118

118 آپ ﷺے ساری قوم کا اعتما داس رنگ میں حاصل فرما چکے تھے کہ آپ سے بڑھ کر مظلوم کا کوئی حامی نہیں آپ نے اپنی جوانی کی عمر میں ایک مجلس بنائی جس کا نصب العین مظلوموں کی مددکرنا تھا۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی آپ ذمہ داری کے احساس سے گھبرائے کہ کتنی عظیم الشان ذمہ داری دنیا کی اصلاح کی میرے سپرد کی گئی ہے۔آپ پر کپکپی طاری ہوگئی آپ گھر تشریف لے گئے۔حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو پھر حضرت خدیجہ کے استفسار پر آپ نے تفصیل بیان فرمائی۔سنتے ہی حضرت خدیجہ کے منہ سے بے اختیار جو الفاظ نکلے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور آپ کی اس شان ربوبیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو آپ اپنے سلوک سے اہل مکہ کی کر رہے تھے۔آپ بے اختیار کہ اٹھیں كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ اَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔بخاری باب بدء الوحی کے خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں فرمائے گا۔آپ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں۔نیک سلوک کرتے ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔آپ بے وارثوں کے وارث ہیں اور ناداروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔جو اخلاق اور نیکیاں دنیا سے ناپید ہو چکی ہیں آپ کے ذریعہ دنیا میں پھر سے ان کا احیاء ہو رہا ہے۔آپ مہمان نواز بھی ہیں۔حق کی خاطر ہر مصیبت زدہ کی مدد کرتے ہیں۔اس حدیث کی تشریح میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا۔یہ پانچ چیزیں ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنی زندگی کو بلکہ بین الاقوامی تعلقات کو ہمیشہ کے لئے درست کر دیا جن کے کام میں کوئی روک تھی ان کی روک کو مدد کر کے آپ نے ملک میں کام کا راستہ کھولا جو لوگ اپانی یا کمانے کے ناقابل تھے ان کے لئے معیشت کا پورا سامان جمع کیا اور پھر قوم میں آئندہ ترقی کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھول دیا۔گویا یہ نظام نو ہوگیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم فرمایا ہے یہ پانچوں اخلاق جب کسی قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں وہ آپس میں حسن سلوک سے کام لیتی ہے اپنے ہمسایوں اور غیر ممالک والوں سے بھی حسنِ سلوک کرتی ہے وہ ایسا انتظام بھی کرتی ہے جس کے ماتحت وہ لوگ جو کسی کام کے اہل نہ ہوں۔ان کے لئے روزی کا سامان مہیا ہو جائے وہ ایسا انتظام بھی کرتی ہے جس کے ماتحت ان کی پریشانی بھی دور ہو جائے اور ان کی بقیہ ضرورتیں پوری ہو جائیں وہ تکسب المعدوم بھی