خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 120
120 کے بیان کرنے میں ہرگز ہرگز مبالغہ نہیں کیا بلکہ میں جانتا ہوں کہ وہ جماعت جس مقام اور درجہ پر پہنچی ہوئی تھی اس کو پورے طور پر بیان ہی نہیں کر سکتے ہمارے مخالف علماء اور دوسرے فرقے اگر چہ ہمارے مخالف ہیں تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس بیان میں ہم نے مبالغہ کیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت تو ایسی شریر کج فہم تھی کہ وہ حضرت موسی کو پتھراؤ کرنا چاہتی تھی بات بات میں سرکشی اور ضد کر بیٹھتے تھے۔توریت کو پڑھ تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کی حالت کیسی تھی وہ ایک سنگدل قوم تھی کیا توریت میں ان کو رضی اللہ عنہم کہا گیا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہاں تو سرکش ٹیڑھی شریر وغیرہ ہی لکھا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت وہ اس سے بدتر تھی۔جیسا کہ انجیل سے معلوم ہوتا ہے خود حضرت عیسی اپنی جماعت کو لالچی اور بے ایمان کہتے رہے بلکہ یہاں تک بھی کہا کہ اگر تم میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو تو تم میں یہ برکات ہوں وہ برکات ہوں غرض وہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی جماعت سے ناراض ہی ہو گئے اور انہیں ایک وفادار جماعت کے میسر نہ آنے کا افسوس ہی رہا یہ بالکل سچی بات ہے کہ نہ توریت میں اور نہ انجیل میں کہیں بھی ان کو رضی اللہ عنہم نہیں کہا گیا۔مگر بر خلاف اس کے جو جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر آئی تھی اور جس نے آپ کی قوت قدسی سے اثر پایا تھا اس کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے۔رضی الله عنهم رضوا (البينة: 9)۔اس کا سبب کیا ہے؟ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا نتیجہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجوہ فضیلت میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آپ نے ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت تیار کی۔میرا دعویٰ ہے کہ ایسی جماعت آدم سے لے کر آخر تک کسی کو نہیں ملی۔مفلوغات جلد چہارم صفحہ 591-592) عنه صفت رحمانیت:۔اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت جس کے آپ ﷺ کامل مظہر بن کر مبعوث ہوئے صفت رحمانیت ہے۔صفت رحمانیت کسی بدلہ یا اجر کا تقاضا نہیں چاہتی۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی ظاہری اور روحانی ضروریات کے لئے سب کچھ بنایا اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات کا کوئی بدل نہیں آپ کی زبان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ما اسئلكم عليه من اجو۔میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا آپ کا دل اہل مکہ کی حالت کو دیکھ کر پکھلتا تھا اور خدا کے آستانہ پر جھک کر گڑ گڑاتا تھا کہ کسی طرح یہ لوگ اپنے حقیقی خالق کو پہچان جائیں کسی طرح یہ اپنی زندگی کے مقصد سے آگاہ ہو جا ئیں کسی طرح یہ خدا تعالیٰ کے سچے عبد بن جائیں۔جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا کون سے تکلیف تھی جو آپ کو نہ دی