خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 111 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 111

111 پس خدا اور رسول کی باتیں سنو۔حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو۔ناولوں اور رسالوں کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی ہے۔لیکن دینی کتابوں کے لئے وقت نہیں ملتا۔کتنی شرم کی بات ہے کہ اب انگریز تو مسلمان ہو کر اُردو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کی کتابیں پڑھیں مگر ہماری عورتیں اُردو نہیں سیکھتیں۔اور اگر کچھ شد بد پڑھ لیتی ہیں تو ناول پڑھنے شروع کر دیتی ہیں۔علم دین سیکھو۔قرآن پڑھو۔حدیث پڑھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں علم و حکمت کی باتیں لکھی ہیں ان سے مفید علم سیکھو۔بی اے، ایم اے کی ڈگریاں لینی دین کے لئے مفید نہیں۔“ میں کہتا ہوں بی اے ، ایم اے ہو کر کیا کرو گی ؟“ میں اپنی جماعت کی عورتوں کو کہتا ہوں کہ دین سیکھو۔اور روحانی علم حاصل کرو۔حضرت رابعہ بصری یا حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس ڈگریاں نہیں تھیں۔دیکھو حضرت عائشہؓ نے علم دین سیکھا اور وہ نصف دین کی مالک ہیں۔مسئلہ نبوت میں جب ہمیں ایک حدیث کی ضرورت ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ جاؤ عائشہ سے سیکھو۔اقتباس از تقریر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی جلسہ سالانہ 1933ء ہمیں اپنے کالج اسکول چلانے کے لئے استانیوں یا ہسپتالوں میں کام کرنے کے لئے لیڈی ڈاکٹروں کی یقیناً ضرورت تھی تا جماعت کے جاری کردہ ادارے کامیابی سے چل سکیں۔اور احمدی بچیوں کو احمدی معلمات میسر آسکیں۔لیکن ایک خاص حد تک معلمات اور لیڈی ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ہر لڑکی ڈگری لے کر نہ معلمہ بن سکتی ہے نہ لیڈی ڈاکٹر۔اس لئے آپ نے جماعت کی عورتوں اور بچیوں کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ جس حد تک ہمیں ضرورت ہے اتنی لڑکیاں یا خواتین بے شک ڈگریاں حاصل کریں۔ایم۔اے کر لیں لیکن ہرلڑکی کو ڈگریاں لینے کی بجائے ان علوم کو سیکھنے کی ضرورت ہے جس سے وہ ہمارے معاشرہ کے لئے ایک کامیاب عورت ثابت ہو سکے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے، ہمیں علم دین کی ضرورت ہے۔کوئی لڑکی اگر ایم اے پاس کرلے اور اسے تربیت اولا د یا خانہ داری نہ آئے تو وہ عالم نہیں جاہل ہے۔ماں کا پہلا فرض بچوں کی تربیت ہے اور پھر خانہ داری ہے۔جو حدیث پڑھے۔قرآن کریم پڑھے۔وہ ایک دیندار اور مسلمان خاتون ہے۔اگر کوئی عورت عام کتابوں کے پڑھنے میں ترقی حاصل کرے تا کہ وہ مدرس بن سکے یا ڈاکٹری کی تعلیم سیکھے تو یہ مفید ہے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے۔لیکن باقی سب علوم لغو ہیں۔“ اقتباس از تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی الازہار لذوات الخمار صفحہ 286