خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 112
112 علم دین سیکھنے کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے عورتوں اور لڑکیوں کو بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ مرد اور عورت کے قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق دائرہ عمل الگ الگ ہیں۔عورتوں یا لڑکیوں کا کام نوکریاں کرنا نہیں۔بے شک اپنے ادارہ جات چلانے کی خاطر بعض خواتین اور بچیوں کو نوکریاں بھی کرنا ہوں گی مگر ان کی غرض خدمت دین، خدمت خلق اور خدمت قوم ہوگی۔نہ کہ پیسہ کمانا۔عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے اور لڑکی کو اعلیٰ تعلیم دینے کی غرض یہ ہے کہ وہ اپنے نیک و بد کو سمجھے۔ایک اچھی بیٹی بنے۔ایک اچھی بہن بنے ، ایک اچھی بیوی بنے ، جس گھر میں شادی ہو کر جائے ان کے لئے اچھی بیوی ثابت ہو اور جب اللہ تعالیٰ اسے اولاد سے نوازے تو بہترین ماں ثابت ہو۔لیکن آج کل حال کیا ہے لڑکیاں تعلیم اس لئے حاصل کر رہی ہیں کہ بڑی سے بڑی ڈگری حاصل ہو جائے خواہ دین بالکل نہ آئے۔چودہ یا سولہ سال کا لگا تار عرصہ تعلیم بسا اوقات ان کی صحتیں خراب کر دیتا ہے اور مناسب وقت ان کی شادی کا گزر جاتا ہے جس کی وجہ سے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔چونکہ لڑکیاں زیادہ پڑھ جاتی ہیں۔اتنے پڑھے ہوئے احمدی لڑکے نہیں ملتے تو ماں باپ اس بناء پر انکار کر دیتے ہیں کہ لڑکی کی تعلیم زیادہ ہے اور لڑکے کی کم۔انہی امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1938ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔" آج کل کی تعلیم یافتہ عورتیں یہ سمجھنے لگ گئی ہیں کہ ہم بھی وہ سب کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں۔اگر مرد کشتی لڑتے ہیں تو عورتوں نے بھی گشتی لڑنی شروع کر دی۔حالانکہ کجا عورتوں کی شرم وحیا اور کجا گشتی۔اسی طرح عورتیں کہتی ہیں کہ ہم نوکریاں کریں گی۔حالانکہ اگر وہ نوکریاں کریں گی تو ان کی اولا دیں تباہ ہو جائیں گی وہ بچوں کی تربیت کیونکر کر سکیں گی۔یہ غلط قسم کی تعلیم ہی ہے جس نے عورتوں میں اس قسم کے خیالات پیدا کر دیئے ہیں۔۔۔۔گھر میں سب سے قیمتی امانت بچہ ہے۔بچہ کی تعلیم وتربیت ماں کا اولین فرض ہے۔اگر عورتیں نوکری کریں گی تو بچوں کی تربیت ناممکن ہے۔۔۔اگر آج کل کی مائیں اپنی اولادوں کی تربیت اس طرح کرتیں جس طرح صحابیات نے کی تو کیا یہ ممکن نہ تھا کہ ان کے بچے بھی ویسے ہی قوم کے جانثار سپاہی ہوتے جیسے کہ صحابیات کی اولادیں تھیں۔اگر آج بھی خدا نخواستہ جماعت احمدیہ میں کوئی خرابی واقع ہوئی تو اس کی عورتیں ہی ذمہ دار ہوں گی۔‘ الازھار لذوات الخمار صفحہ 320 اسی طرح آپ نے اپنی تقریروں میں عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ فرماتے ہوئے جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔