خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 110
110 لڑکیوں کو اعلیٰ ڈگریاں دلانے کے شائق ہیں۔یہ ایک فیشن ہو گیا ہے جو انگریزوں کی ریس اور تقلید میں ہے۔اور اس فیشن کی رو جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔پہلے جنون تھا جہالت کا اور اب جنون ہے موجودہ طریق تعلیم کا۔حالانکہ یہ بھی ایک جہالت ہے۔۔۔آج کل عورتوں میں ڈگریاں پانے کا جنون پیدا ہورہا ہے۔وہ بجھتی ہیں کہ ہم مہذب نہیں کہلا سکتیں جب تک کہ کوئی علمی ڈگری ہمارے پاس نہ ہو مگر یہ ان کی جہالت کا ثبوت ہے۔میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اپنی جماعت کی عورتوں کو جہاں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دوں وہاں یہ بھی بتاؤں کہ کتنی تعلیم اور کیسی تعلیم الازھار لذوات الخمار صفحہ 283) حاصل کرنی چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا:۔ایک عورت ہے جو اپنی عمر کو ریاضی کے مسئلے سیکھنے میں گزار دے اور بچوں کی تربیت اور خانہ داری کے فرائض کو چھوڑ دے تو اسے عقلمند یا علم سیکھنے والی کون کہے گا۔مرد تو علم سیکھنے کے لئے مجبور ہے کیونکہ اس نے روزی پیدا کرنی ہے۔مگر عورت کو ریاضی کے سوال حل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ علم نہیں یہ جہالت ہے۔“ الازهار لذوات الخمار صفحہ: 284 تعلیم عام ہونے کے ساتھ جب لڑکیوں میں ڈگریاں لینے کا شوق پیدا ہو گیا اور دینی تعلیم سے بے تو جمہگی ہوئی تو آپ نے عورتوں کو بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ تمہارا مقصد دینی تعلیم حاصل کرنا ہونا چاہئے تا کہ دین کی اشاعت میں تمہارا حصہ ہو۔جب شادی ہو تو اولاد کی صحیح رنگ میں تربیت ہو۔آپ نے ان کو قرآن مجید پڑھنے یا احادیث پڑھنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی ان کے فرائض کی طرف بھی کہ اگر لڑ کی ڈگری حاصل کرلے اور امور خانہ داری سے ناواقف ہو تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ۔آپ نے فرمایا: عورتوں کا کام ہے گھر کا انتظام اور بچوں کی پرورش۔مگر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسرے کی چیز کو اچھی جانتے ہیں اور اپنی شے پسند نہیں کرتے۔اس لئے یورپ کی عورتوں کی ریس کر کے ہماری مسلمان قوم اپنی لڑکیوں کو ڈگریاں دلانا چاہتی ہے۔حالانکہ عورت گھر کی سلطنت کی ایک مالکہ ہے اور ایک فوجی محکمہ کی گویا افسر ہے۔کیونکہ اس نے پرورش اولا د کرنی ہے۔مصباح 15 جنوری 1934ء﴾ آپ نے عورتوں پر اپنی مختلف تقاریر میں واضح کیا کہ قوم اور ملت کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ دین کا علم حاصل کیا جائے اور ڈگریوں کے پیچھے نہ پڑا جائے بہت کم عورتیں خدمت دین اور تبلیغ اسلام کرتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔