خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 109
109 قرآن اس لئے نہیں کہ پڑھنے سے جنت ملے گی۔اور نہ پڑھنے سے دوزخ بلکہ فرمایا کہ فی ذکرکم اس میں تمہاری روحانی ترقی اور علوم کے سامان ہیں۔قرآن ٹو نہ نہیں۔یہ اپنے اندر حکمت اور علوم رکھتا ہے جب تک اس کی معرفت حاصل نہ کرو گی۔قرآن کریم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔تم میں سے سینکڑوں ہوں گی جنہوں نے کسی نہ کسی سچائی کا اظہار کیا ہوگا۔لیکن اگر پوچھا جائے کہ تمہارے اس علم کا ماخذ کیا ہے تو وہ ہرگز ہرگز قرآن کو پیش نہ کریں گی بلکہ ان کی معلومات کا ذریعہ کتا بیں، رسائل، ناول یا کسی مصنف کی تصنیف ہوں گی اور غالباً ہماری جماعت کی عورتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب ہوگی تم سے کوئی ایک بھی یہ نہ کہے گی کہ میں نے فلاں بات قرآن پر غور کرنے کے نتیجہ میں معلوم کی ہے۔کتنا بڑا اندھیرا ہے کہ قرآن جو دنیا میں اپنے اندر خزا نے رکھتا ہے اور سب بنی نوع انسان کے لئے یکساں ہے اس سے تم اس قدر لا علم ہو۔اگر قرآن کا دروازہ تم پر بند ہے تو تم سے کس بات کی توقع ہو سکتی ہے؟“ الازھار لذوات الخمار صفحہ 225,224 حضرت مصلح موعود کی تقریر کا یہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی کہ احمد یہ خواتین اور بچیوں میں قرآن مجید کا فہم ہو۔وہ قرآن مجید ترجمہ سے پڑھیں۔سمجھیں اور اس کے نور کی شمع سے دوسری خواتین کو منور کریں۔ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بارہا اپنی تقریروں میں آپ نے اس امر کا اظہار فرمایا کہ اصل علم دین کا علم ہے۔لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کی یہ غرض نہیں کہ بچیاں صرف حساب، انگریزی اور دوسرے علوم سیکھ کر ڈگریاں لے لیں یا نوکریاں کریں بلکہ اعلیٰ تعلیم سے مُراد یہ ہے کہ جہاں دنیوی تعلیم حاصل کریں وہاں ساتھ ساتھ قرآن مجید کا علم حدیث کا علم سیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر عبور حاصل ہو۔ہر مسئلہ کے متعلق صحیح علم ہو۔تا جہاں اپنی جماعت کی بچیوں کی صحیح رنگ میں تعلیم و تربیت کر سکیں۔وہاں دوسری خواتین کے لئے ہدایت و اصلاح کا موجب بنیں۔جہاں آپ نے سر توڑ کوشش اس لئے کی کہ جماعت کی ایک بچی بھی جاہل نہ رہ جائے۔لوگوں نے آپ کی مخالفت کی مگر آپ برابر جماعت میں بچیوں کے والدین کو ان کی تعلیم کی طرف توجہ دلاتے رہے۔اور ان کی تعلیم کا انتظام کرتے رہے۔آپ نے اس امر سے تنفر کا اظہار فرمایا کہ جب تعلیم عام ہوئی تو بچیوں کے والدین بجائے اس کے دینی علم کی طرف توجہ دیتے ان کو ڈگریاں دلوانے میں فخر محسوس کرنے لگ پڑے۔آپ نے جلسہ سالانہ 1933ء میں خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں نہیں سمجھتا کہ سکندر یا تیمور کو ملک فتح کرنے کا اتنا شوق ہوگا جتنا کہ آج کل کے ماں باپ