خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 101 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 101

101 پردہ میں بے پردگی میری تحریر کا عنوان دیکھ کر بہت سی بہنیں چونک اٹھیں ہوں گی کہ اس کا کیا مطلب؟ پردہ میں بے پردگی کیسی؟ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پردہ کرنے والی خواتین میں سے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو پردہ کرنے کے باوجود بے پردہ کہلانے کا مستحق ہے۔پردہ کی اصل روح برقعہ نہیں۔بلکہ یہ ہے کہ ایسے رنگ میں پردہ کیا جائے۔جس سے عورت کا چہرہ اور اس کا جسم صنف غیر کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔اس کی زینت ظاہر نہ ہو۔سوائے ان لوگوں کے جن کے سامنے زینت ظاہر کرنے کی اجازت قرآن مجید دیتا ہے۔میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک طبقہ خواتین کا ایسا ہے جو ظاہر میں تو پردہ کرتی ہیں۔مگر حقیقت میں ان کو با پر وہ خواتین نہیں کہا جاسکتا۔اس ذیل میں مندرجہ ذیل خواتین آتی ہیں۔ہو جانا۔(1) برقعہ تو پہنا لیکن نقاب چہرہ پر نہ ڈالنا۔(2) کسی مجلس میں برقعہ پہن کر چلے جانا لیکن نقاب پیچھے پھینک کر یا برقعہ اتار کر مردوں کے سامنے (3) اگر وہ مجلس دعوت کا رنگ رکھتی ہے تو بیروں کے سامنے ہو جانا۔نوکروں مثلاً باور چی، بیرے، دھوبی، مالی ، سقہ، جمعدار اور ڈرائیور وغیرہ سے پردہ نہ کرنا۔(4) یو نیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات کا گھر سے برقعہ پہن کر جانا اور یو نیورسٹی میں پر فیسروں اور یونیورسٹی میں پڑھنے والا طلباء سے پردہ نہ کرنا۔(5) بازار سے سودا خریدتے ہوئے دکانداروں سے پردہ نہ کرنا۔(6) ایسے رشتے داوں کے سامنے ہونا جن سے پردہ کرنا ہے۔(7) اتنا تنگ برقعہ پہننا کہ جسم کا ایک ایک عضو نظر آئے یا برقعہ ایسا مزین کرنا کہ خواہ مخواہ نظریں اس پر پڑیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اس سلسلہ میں کیا روشنی ڈالتا ہے۔کیا قرآن مجید کے نزدیک نوکروں، دکانداروں، بیروں وغیرہ کے سامنے ہونا جائز ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا