خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 27
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ غیرت اپنی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اگر مفتری ہوتے تو آپ کو بلاک کر دیتا مگر دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے اور دوسرے خواہ کیسا ہی خدا پر افتراء کریں اور جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں ان کی نسبت خدا کی غیرت جوش نہیں مارتی۔یہ خیال جیسا کہ غیر معقول ہے ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں کے برخلاف بھی ہے اور اب تک توریت میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ جو شخص خدا پر افترا کرے گا اور جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے گا وہ ہلاک کیا جاوے گا۔علاوہ اس کے قدیم سے علماء اسلام آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کو عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لیے بطور دلیل پیش کرتے رہے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی بات میں عموم نہ ہو وہ دلیل کا کام نہیں دے سکتی۔بھلا یہ کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر افترا کرتے تو ہلاک کیے جاتے اور تمام کام بگڑ جا تا لیکن اگر کوئی دوسرا افتر اکرے تو خدا ناراض نہیں ہوتا بلکہ اُس سے پیار کرتا ہے اور اُس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ مہلت دیتا ہے اور اس کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔اس کا نام تو دلیل نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ تو ایک دعوی ہے کہ جو خود دلیل کا محتاج ہے۔افسوس میری عداوت کے لیے ان لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۷