خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 26
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء آیت اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے معنوں میں عموم ہے۔جیسا کے تمام قرآن شریف میں بھی محاورہ ہے کہ بظاہرا کثر امر و نہی کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں لیکن ان احکام میں دوسرے بھی شریک ہوتے ہیں یا وہ احکام دوسروں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔جیسا کے یہ آیت فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ( بنی اسرائیل : 24) یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر جن میں ان کی بزرگی کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دارصل مرجع کلام امت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہو چکے تھے اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھے، تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہیے۔۔فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پر کچھ افتر اگر تا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے۔اس کا یہ مطلب نہیں ۲۶