خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 28
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء سچائی کے نشانوں پر بھی حملے کرنے لگے۔چونکہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ میرے اس دعوئی وحی اور الہام پر پچیس سال سے زیادہ گزرچکے ہیں۔فرمایا کہ اور ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہے اس لیے یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افتر اکرنے والا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افتر اسے تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔اے بیباک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔جو کچھ خدا نے اپنے لطف وکرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ اس مدت دراز میں ہر ایک دن میرے لیے ترقی کا دن تھا اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لیے اٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا۔اگر اس مدت اور اس تائید و نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کر دور نہ بموجب آیت لَو تَقَول عَلَيْنَا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور تم اس سے پوچھے جاؤ گے“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 213 تا 215) اور یہ سلوک آج تک آپ کی جماعت سے ہو رہا ہے۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا جو سعید فطرت لوگ ہیں وہ خوا نہیں دیکھ کر جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور ہر سال ہو رہے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد ہے جو خوا ہیں دیکھ ۲۸