خلیج کا بحران — Page 62
۶۲ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء جیلیسی Jealousy تھی یا حسد تھا جو دراصل ان اختلافات کو ہوا دے رہا تھا اور اس کے نتیجے میں جو عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ بعد میں پیدا ہوا۔تو یہ جو بدلتے ہوئے حالات ہیں ان میں یہ اختلافات اور بھی زیادہ بڑھنے والے ہیں اور ان کے ساتھ جماعت احمدیہ کو براہ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔چونکہ اب وقت زیادہ ہو گیا اور تمہید ہی جو کافی وقت چاہتی تھی مشکل سے ختم ہوئی ہے اس لئے میں اس مضمون کو آج یہاں ختم کرتا ہوں۔آئندہ خطبہ چونکہ تحریک جدید کے موضوع پر دیا جانا ہے اس لئے آئندہ خطبے میں انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق تحریک جدید کا موضوع بیان ہوگا اور اُس کے بعد پھر خطبہ جب آئے گا تو پھر میں اس مضمون کو جماعت احمدیہ کے تعلق میں اُس کی مذہبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے تعلق میں بیان کروں گا کہ ہمیں کیا کیا خطرات درپیش ہیں، دنیا کو ان خطرات سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے اور اسلام کی روح کو زندہ رکھنے کے لئے اور نسل پرستی کے حملوں سے بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کس قسم کے خطرات ہمارے سامنے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف انتہائی گہرا اور خطرناک منصوبہ اب آخر پر میں دوبارہ عراق اور عرب اور مسلمانوں کے عمومی مفاد کے متعلق دُعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔اس مسئلے پر میں تفصیل سے پہلے روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے اُس کو دوبارہ چھیٹر نے کی ضرورت نہیں جو نئے حالات سامنے اُبھر رہے ہیں ان کی رُو سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغربی قو میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اسرائیل کے چنگل میں مکمل طور پر پھنس کر اُن کے اس منصوبے کا شکار ہو چکی ہیں کہ بہر حال عراق کی ابھرتی ہوئی طاقت کو ملیا میٹ کر دیا جائے اور اسی تسلسل میں مسلمانوں کی دیگر طاقتیں جو ہیں وہ بھی کمزور ہو جائیں اور بکھر جائیں لیکن اس سطح پر یہ مقابلے نہ ہوں کہ گویا مسلمان ایک طرف اور عیسائی ایک طرف ، مغربی قومیں ایک طرف اور مشرقی ایک طرف بلکہ اس دفعہ کا جو منصوبہ ہے اُس میں جاپان تک کو بھی اس میں شامل کرنے کا پختہ منصوبہ بنایا جا چکا ہے اور آج کل جاپان میں یہی بحث چل رہی ہے کہ محض اس لئے کہ جاپان کو بھی عراق کو تباہ کرنے میں