خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 376

خلیج کا بحران — Page 63

۶۳ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء حصہ دار بنا دیا جائے۔جاپان کے اُس قانون کو بدلنے کے لئے جاپانی اسمبلی میں Resolutions پیش کئے جاچکے ہیں جس قانون کو خود مغربی اقوام نے ایک لازمی اور غیر متبدل لائحہ عمل کے طور پر جاپان کے لئے تجویز کیا تھا کہ کبھی بھی دنیا میں جاپانی فوج اپنے ملک سے باہر جا کر کوئی لڑائی نہیں لڑے گی اور اپنے ملک سے باہر کسی اور سرز مین پر جا کر کسی قسم کی فوجی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوگی۔یہی قانون جرمنی کے لئے بھی بنایا گیا تھا جو تبدیل کر دیا گیا ہے اور یہی قانون جاپان کے لئے بنایا گیا تھا تا کہ آئندہ کبھی بھی جاپانی قوم کو کسی عالمی جنگ میں شرکت کا خیال تک پیدا نہ ہوا اور مسلمان دشمنی میں اور عرب دشمنی میں کہہ لیجئے مگر میرے خیال میں تو زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ مسلمان دشمنی میں انہوں نے اب جاپان کو بھی اس رنگ میں ملوث کیا ہے کہ وہ بھی ساری دنیا کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی موجودہ اُبھرتی ہوئی بڑی طاقت کو گالیۂ نیست و نابود کر دے تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ مغربی دنیا کا کھیل ہے اور نہ مشرق اور مغرب کی تقسیم ہو اس موضوع پر اور نہ اسلام اور غیر اسلام کی تقسیم ہو۔عرب ممالک بھی ساتھ ہوں، مسلمان ممالک بھی ساتھ ہوں، مغربی بھی ہوں اور مشرقی بھی اور جاپان چونکہ ایک بہت بڑی طاقت رکھتا ہے اور جاپان کے چونکہ اقتصادی مفادات تیل کے ملکوں سے بڑے گہرے وابستہ ہیں اس لئے اُن کو یہ بھی خطرہ تھا اگر جاپان الگ رہا تو بعد کی اُبھرتی ہوئی شکل میں جن نفرتوں نے جنم لینا ہے اُس کا نشانہ صرف مغربی طاقتیں نہ بنیں بلکہ جاپان بھی ساتھ شامل ہو جائے کیونکہ اقتصادی طور پر مقابلہ اگر ہے تو جاپان ہی سے ہے۔بہر حال بہت ہی ہوشیاری کے ساتھ بہت ہی عظیم منصوبے کے تحت جاپان کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔تفصیلی منصوبہ کا خلاصہ ان کی جو مختلف ممالک میں کا نفرنسز ہو رہی ہیں اور ان کے دانشور جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اُس کا خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہ کتنا بھیا نک منصوبہ ہے جس کے نتیجے میں اتنا گہرا اور لمبا نقصان عالم اسلام ہی کو نہیں بلکہ دوسری مشرقی دنیا کو بھی پہنچے گا کہ