خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 376

خلیج کا بحران — Page 61

ད ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء اور ہم جیسے سانولے لوگ بھی بیچ میں آجاتے ہیں جو اس لحاظ سے بھی تعصب کا شکار بن جاتے ہیں اور اُس لحاظ سے بھی تعصب کا شکار بن جاتے ہیں چنانچہ امریکہ میں پاکستانی اور ہندوستانی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ کالوں کے نزدیک بھی الگ قوم ہیں اور Colonist کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور سفید فاموں کے نزدیک بھی یہی حال ہوتا ہے۔یہی خطرات افریقہ میں ابھر رہے ہیں کہ پاکستانی کا رنگ چونکہ اُن سے مختلف ہے اس لئے پاکستانی کو بھی وہ ایک غیر قوم سمجھ کر یہ تعصب دل میں بٹھانے لگتے ہیں کہ یہ بھی آئے ہوئے ہیں باہر سے گویا ہم پر راج کرنے آئے ہیں۔بہر حال یہ تعصبات پھر جو قومی تعصبات ہیں یہ وسیع تر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر رنگوں میں بدل جاتے ہیں۔روس اور چین میں اختلاف کی اصل نوعیت روس اور چین کے درمیان جو تاریخی اختلافات ہیں اُن کا زیادہ تر تعلق اشتراکیت کے مختلف تصورات سے بتایا جاتا ہے یعنی یہ تعلق بتایا جاتا ہے کہ روس کے ہاں اشتراکیت کا الگ تصور ہے اور چین کے ہاں الگ تصور ہے اور چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان فلسفہ اشتراکیت کو سمجھنے میں اختلافات ہیں اور اُس کی تعبیروں میں اختلافات ہیں اس لئے ان دونوں قوموں کے درمیان اتحاد نہیں ہوسکتا۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اختلافات بالکل سطحی نوعیت کے ہیں۔بنیادی اختلاف یہ ہے کہ روس اپنی عظمت اور طاقت کے زمانے میں بھی کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اشتراکیت چین کی زرد فام رنگ اختیار کر کے دنیا پر قابض ہو جائے اور چین کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اشتراکیت زرد رو ہو کر نہ اُبھرے بلکہ سُرخ و سفید ہو کر یورپین اشتراکیت کے طور پر دنیا پر قابض ہو جائے۔پس در حقیقت ان دونوں قوموں کے درمیان جو حسد تھا وہ زرد قوم اور سرخ و سفید قوم کے درمیان کا حسد تھا جو اپنے جلوے دکھاتا تھا اگر چہ دبا رہا اور دنیا کی نظر میں اس طرح اُبھر کر نہیں آیا لیکن جو لوگ ان کی قومی نفسیات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں یہ اشتراکیت کے جھگڑے نہیں تھے بلکہ چینی قوم کے یعنی زردر و چینی قوم کے سفید اور سرخ رُخ رکھنے والی روسی قوموں سے