خلیج کا بحران — Page 46
۴۶ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء قو میں پیدا کی ہیں ان دونوں سے مقابلے کی دنیا میں کسی انسان کو طاقت نہیں بخشی ،تمہیں بھی نہیں بخشی۔ایک علاج ہے کہ تم پہاڑ کی پناہ میں چلے جاؤ اور دعائیں کرو۔(مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر : ۵۲۲۸)۔دعا ہی وہ طاقت ہے جو ان قوموں پر غالب آئے گی۔مسیح محمدی کی جماعت اور اس کی ذمہ داری اس میں پہاڑ سے کیا مراد ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہاڑ ہیں جس کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے کہ لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِعَا مِنْ خَشْيَةِ الله (الحشر :۲۲) کہ یہ قرآن اگر ہم پہاڑ پر بھی اتارتے تو وہ اس کی عظمت سے خشیت اختیار کرتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جا تا گر جاتالیکن اس میں نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لئے آیات ہیں جو فکر کرنے کے عادی ہیں۔مراد یہ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کو پہاڑوں پر عظمت حاصل تھی۔محمد مصطفی علی پہاڑوں میں سب سے سر بلند تھے۔دنیا کے پہاڑوں میں تو یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کلام کی عظمت اور جلال کو برداشت کر سکے لیکن ایک محمد مصطفیٰ ہیں جو سب سے سر بلند پہاڑ تھے اور سب سے قوی پہاڑ تھے۔پس مراد یہی ہے کہ محمد مصطفی کی عظمت کی طرف لوٹو اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم میں پناہ مانگو۔اس سے طاقت پاؤ اور اگر د مصطفی ﷺ کی عظمت کی طرف لوٹو گے اور اس میں پناہ لے کر دعائیں کرو گے تو محمد مصطفیٰ کے سائے میں پلنے والی دعائیں کبھی نا کام نہیں جایا کرتیں۔اس عظمت سے پھر تم بھی حصہ پاؤ گے۔تمہاری دعا ئیں حصہ پائیں گی اور دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ اس زمانے کے تمام مسلمانوں میں سے کسی کے متعلق نہیں فرمایا کہ خدا ان کو کہے گا کہ تم دعائیں کرو۔صرف مسیح اور مسیح کی جماعت کے متعلق یہ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اس زمانے میں حقیقت میں دعا سے ایمان ہی اٹھ چکا ہو گا دعا کو وہ لوگ اہمیت نہیں دیں گے۔اس لئے جن لوگوں کو دعا کی اہمیت ہی کوئی نہیں ان کو دعا کا نسخہ بتا نا ہی بالکل بے کار بات ہے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ کتنے ہی مسلمان