خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 376

خلیج کا بحران — Page 45

کا بحران ۴۵ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء تمہیں منع نہیں کرتا بلکہ ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔یہ اسلام ہے لیکن اسلام کی وہ تعلیم جو عقل کی تعلیم ہے اسے انہوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا اور اس تعلیم پر عمل کیا جس کو خود بے عقلی کے معنے پہنائے پس جہاں دوستی سے منع کیا گیا وہاں دوستیاں کیں۔جہاں دوستیاں کرنے کی تلقین کی گئی اور طریقہ سکھایا گیا کہ کس قسم کی قوم سے دوستیاں کرنی ہیں وہاں دوستیوں سے باز رہے۔پس ان کی بیماری کی آخری شکل یہی بنتی ہے کہ تقویٰ سے دور جاچکے ہیں، قرآن کریم کی تعلیم سے دور جاچکے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک بل سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر : ۵۶۶۸) لیکن کتنی بارڈ سے جاچکے ہیں۔اسی سوراخ میں دوبارہ انگلیاں ڈالتے ہیں اور اسی سوراخ سے بار بارڈ سے جاتے ہیں اور آج تک انہوں نے ہوش نہیں پکڑی۔پس صاحب ہوش مغرب کے حالات کا تجزیہ کریں تو وہ بھی جاہل ہے اور بے وقوف ہے اور بار بار کے نقصانات کے باوجود آج تک نصیحت نہیں پکڑ سکا کہ اصل بیماری کیا ہے اور جب تک یہ بیماری رہے گی دنیا کے لئے خطرات ہمیشہ اسی طرح ان کے سر پر منڈلاتے رہیں گے اور مقابل پر جو مسلمان ممالک نے بھی بار بار کی تکلیفیں اٹھانے کے باوجود نصیحت نہیں پکڑی اور بار بارا نہی غلطیوں میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس کا کیا علاج ہے اس کا صرف ایک علاج ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ہمیں سکھلایا اور جس کی طرف میں نے آپ کو پہلے بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر دوبارہ توجہ دلاتا ہوں۔آنحضرت کا تجویز کردہ علاج آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مختلف بڑی لمبی پیشگوئیاں ہیں ان میں سے ایک ٹکڑا آپ کو بتا تا ہوں۔آخری زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یا جوج ماجوج دنیا پر قابض ہو جائیں گے اور موج در موج اٹھیں گے اور تمام دنیا کو ان کی طاقت کی لہریں مغلوب کر لیں گی۔اس وقت دنیا میں مسیح نازل ہوگا اور مسیح اپنی جماعت کے ساتھ ان کے مقابلے کی کوشش کرے گا، ان کے مقابلے کا ارادہ کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ مسیح سے یہ فرمائے گا۔لَا يَدَانِ لَاحَدٍ لِقِتَالِهِمَا کہ ہم نے جو یہ دو